
لاہور(یو این اے )لاہورہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے پنجاب سے ارکان قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن تاحکم ثانی معطل کردیا۔پی ٹی آئی کے 70 ارکان قومی اسمبلی نے استعفے منظورکرنے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے تحریک انصاف کے مستعفی ایم این ایز کی درخواست پر سماعت کی۔لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے پنجاب سے ارکان قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا الیکشن کمیشن کا نوٹی فکیشن تاحکم ثانی معطل کردیا ۔اس کے علاوہ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پنجاب کے متعلقہ حلقوں میں ضمنی الیکشن بھی روکنے کا حکم دے دیا ہے۔عدالت عالیہ نے الیکشن کمیشن، اسپیکر قومی اسمبلی اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 7 مارچ تک ملتوی کر دی اس سے قبل 8 فروری کو بھی لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے 43 ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کا حکم معطل کرتے ہوئے متعلقہ حلقوں میں ضمنی انتخابات تاحکم ثانی روک دیے تھے۔پی ٹی آئی کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان کے قومی اسمبلی سے استعفے منظور کرنے کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس شاہد کریم نے تحریک انصاف کے مستعفی ایم این ایز کی درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کے ایم این ایز کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا۔ اس دوران عدالت عالیہ نے الیکشن کمیشن، اسپیکر قومی اسمبلی سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کر دیے۔ 2 فروری کو لاہور ہائی کورٹ نے تحریک انصاف کی جانب سے 43 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کے اقدام کے خلاف دائر درخواست سماعت کے لیے مقرر کی تھی۔پاکستان تحریک انصاف نے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے 43 اراکین کے استعفے منظور کرنیکا اقدام لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھاتحریک انصاف کے سابق اراکین اسمبلی نے درخواست میں اسپیکر کے 22 جنوری اور الیکشن کمیشن کے 25 جنوری کے نوٹی فکیشن چیلنج کیے تھے۔ سابق اراکین نے مقف اختیار کیا تھا کہ استعفے واپس لینے کے بعد اسپیکر کے پاس اختیار نہیں کہ وہ اسے منظور کریں، اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کرنا خلاف قانون اور بدنیتی پر مبنی ہے درخواست میں کہا گیا کہ اراکین قومی اسمبلی کے استعفے عدالت عظمی کے طے کردہ قوانین کے برعکس منظور کیے گیے، اسپیکر قومی اسمبلی نے سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے استعفے منظور کیے درخواست میں کہا گیا کہ استعفے منظور کرنے سے پہلے اسپیکر نے اراکین کو بلا کر مقف نہیں پوچھا، عدالت اسپیکر قومی اسمبلی اور الیکشن کمیشن کی جانب سے استعفے منظور کرنے کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دے۔



