
اسلام آباد (یو این اے )ملک بھر میں آٹے اور گندم بحران نے کیوں جنم لیا یو این اے انویسٹی گیشن یونٹ کی تحقیقات میں وجوہات سامنے آگئیں۔رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں بدانتظامی، ملز کے گٹھ جوڑ اور کرپشن کی وجہ سے آٹے کی قیمتیں دگنی ہوئیں۔سرکاری دستاویزات کے مطابق ملک میں اس وقت 44 لاکھ ٹن گندم کی کمی کا سامنا ہے، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے پاس گندم کا صرف ایک ہفتے کا ذخیرہ موجود ہے۔رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم افغانستان اسمگل ہوگئی۔ بونیر میں 17 کروڑ روپے کی2100 ٹن امپورٹڈ گندم غائب ہوگئی جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان کے سرکاری گوداموں سے 189 ٹن امپورٹڈ گندم غائب ہوئی۔ صوابی کی 4 فلور ملز کو 190 ٹن اضافی کوٹہ دیا گیا۔دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا میں گندم کی مناسب منتقلی نہ ہونے سے سرکاری خزانے کو 13 کروڑ کا نقصان ہوا۔محکمہ خوراک کے مطابق گندم بحران اس سال بھی برقرار رہے گا، گندم کی ضرورت میں سالانہ 8سے 10 لاکھ ٹن اضافہ ہورہا ہے۔ پچھلے سال 18 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کی،اس سال 30 لاکھ ٹن کرناپڑے گی۔ رپورٹ کے مطابق گندم کی پیداوار 3سال سے نہیں بڑھی جبکہ سیلاب سے بھی نقصان ہوا۔دوسری جانب پنجاب کی 24 فلورملز کو گندم کا اضافی کوٹہ ملنے کا انکشاف ہوا ہے، اضافی کوٹہ حاصل کرنے والی اکثر ملز مالکان حکومت کا حصہ رہے۔ مبینہ بدانتظامی سے محکمہ خوراک کو اس سال 30 کروڑ کا نقصان پہنچایا گیا دستاویزات کے مطابق پاسکو،وزارت خوراک کے 21 ملازمین کیخلاف مبینہ کرپشن پر انکوائریاں جاری ہیں۔ اٹک پل،کوٹ سبزل، سخی سرور،داجل میں سب سے زیادہ گندم اسمگل ہوئی۔ اٹک کے ضلعی فوڈ کنٹرولر سمیت 11 اہلکاروں کیخلاف بھی کرپشن انکوائری جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سندھ میں 5 ارب روپے کی گندم سرکاری گوداموں میں پڑے پڑے خراب ہوگئے۔ خیرپور،حیدر آباد کے سرکاری گوام میں 12 لاکھ من گندم خراب ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان سے زیادہ تر آٹا افغانستان منتقل ہو رہا ہے بلوچستان سےمحلقہ افغانستان کے مختلف بارڈر سر رکھتے ہیں جن میں نوشکی کی چمن پنچپاء شامل ہیں۔



