
کوئٹہ(یو این اے)پولیس اہلکاروں کی جانب سے تلاشی اورچیکنگ کے نام پر شہریوں کی تذلیل کرنامعمول بن گیا،پولیس چوری ڈکیتی کی وارداتوں کی روک تھام میںناکام ہوچکی ہے، سٹی تھانے کاعملہ بھی کاغذات اورتلاشی کے نام پر سے پیسے بٹورنے لگے جس سے شہریوں میں تشویش کی لہردوڑگئی۔تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے تلاشی کے نام پرشہریوں کی تذلیل کرنے کاسلسلہ جاری ہے، کاغذات چیک کرناٹریفک پولیس کاکام ہے تاہم سٹی تھانے کاعملہ رات کے وقت جناح روڈاوردیگرعلاقوں میں ناکے لگاکرشہریوں سے کاغذات طلب کرتے ہیں اوراگرکوئی شہری کاغذات بھول جائے توچالان کرکے اس کی تذلیل بھی کرتے ہیں۔ شہریوں نے بتایاکہ پولیس اہلکاررات کے وقت پیسے بٹورنے کے لئے جگہ جگہ شہریوں کو روکتے اورمختلف حیلے بہانے بناکرشہریوں کو تنگ کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں میں تشویش کی لہردوڑگئی ہے ، انہوں نے بتایاکہ پولیس شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کی ذمہ دارہے تاہم وہ اپنے فرائض کوبھول کرلوگوں کو ہراساں کرتے ہیں ، پولیس حکام کی مبینہ عدم توجہی کے سبب شہر میں آئے روزیکے بعددیگرے چوری ڈکیتی اورموبائل چھیننے کی وارداتیں رونما ہورہے ہیں چوری ڈکیتی میں ملوث عناصرلوگوں کو قیمتی اشیا سے محروم کرکے بآسانی فراہوجاتے ہیں ایسے مقامات میں کہیں بھی پولیس نظرنہیں آتی، ستم ظریفی کی بات تویہ ہے کہ چوری ڈکیتی کی وارداتوں کے ایف آئی آرتک درج نہیں کئے جاتے اورشہری پولیس تھانوں کے طواف کرکے تھک جاتے ہیں مگرکوئی شنوائی نہیں ہوتی، انہوں نے صوبائی وزیرداخلہ بلوچستان اورآئی جی پولیس سے مطالبہ کیا کہ شہریوں کوتنگ کرنے کے واقعات کانوٹس لیتے ہوئے چوری ڈکیتی میں ملوث عناصرکوکیفرکردارتک پہنچایاجائے۔



