
کوئٹہ/ اسلام آباد (یواین اے)شیخ رشید نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ہاتھ پاں پر زخم ہیں اسپتال بھیجا جائے اور رینجرز کی سیکیورٹی دی جائے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو جسمانی ریمانڈ پورا ہونے پر اسلام آباد کی ماتحت عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر کر رہے ہیں عدالت میں موقف پیش کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ تفتیشی سے پوچھیں کہ مجھے 6 گھنٹے کس کے حوالے کیا گیا، میرے پاس دو موبائل لائے گئے اور پاسورڈ کا پوچھا گیا، کل چار دفعہ میری ریکارڈنگ کی گئی ہے شیخ رشید نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ میرے ہاتھوں اور پاں پر زخم ہے، مجھے اسپتال بھیجا جائے اور رینجرز کی سیکیورٹی چائیے۔عدالتی حکم پر شیخ رشید کی ہتھکڑیاں کھول دی گئیں۔ عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ بتائیں دو دن میں کیا کیا ہے تفیتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی آواز (وائس) میچنگ ٹیسٹ کروا لیا گیا ہے، ابھی فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کروانا ہے۔شیخ رشید کے وکیل عبد الرازق نے عدالت میں مقف پیش کیا کہ دو دن پہلے اسی کیس میں تفتیش کیلئے 2 دن کا ریمانڈ دیا تھا، یہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے، شیخ رشید کی عمر 73 سال ہے اور ان پر تشدد کیا گیا، ایس ایچ او کو کس نے حکم دیا شیخ رشید پر تشدد کرے، قانون ملزم پر تشدد کی اجازت نہیں دیتا۔عدالت نے شیخ رشید کے وکیل کو ٹرانسکرپٹ پڑھنے کی ہدایت کر دی۔شیخ رشید کے وکیل شیخ رشید کے بنیادی حقوق سلب کئے جا رہے ہیں، مقدمہ میں جو دفعات لگائی گئی ہیں وہ بنتی ہی نہیں ہیں، راولپنڈی تھانہ صادق آباد میں بھی درخواست دے دی گئی ہے،
بلوچستان کے شہر حب میں میں ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، سیاسی بنیادوں میں مقدمات درج کئے جا رہے ہیں یو این اے کے مطابق شیخ رشید کا پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن کی جانب سے ایف آر درج کرائی گئی۔دوسری جانب سے بلوچستان کے علاقے حب میں درخواست گزار علی اصغر کی جانب سے مقدمے کی درخواست دی گئی ہے جس میں موقف اختیارکیاگیاہے کہ شیخ رشید ملک میں امن وامان کو خراب کرنے اور خون ریزی کرانے کی سازش کررہا ہے شیخ رشید کے نازیبا الفاظ سے پاکستان پیپلز پارٹی اور عوام میں اشتعال پھیل گیا ہے بعدازاں حب میںشیخ رشید کے خلاف 506۔504۔500۔186اور 153ت پ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ۔
Follow GoonjLive On Facebook , Twitter ,Linkedin, RSS and Youtube



