
بولان(یو این اے ) جمعیت علما اسلام کے رہنما سابق وزیر اعلی ورکن صوبائی اسمبلی بلوچستان چیف آف سراوان نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو لاپتہ کیا جارہا ہے حکومت وقت مسنگ پرسنز کو جلد منظر عام پر لائیں اور پاکستان کو نیا عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے ملکی سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت سے جاری معاشی بدحالی کے ذمہ دار ہیں اداروں نے پارلمینٹ کو کمزور کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کا ہر طبقہ سیاسی بحرانوں میں پیس چکا ہے جو ادارے آج بول رہے ہیں کہ ہم سیاست میں غیر جانبدار ہیں تو انکا احتساب ہونا چاہیے جنہوں نے غیر آئینی مداخلت کرکے آج پارلیمنٹ کو مفلوج بنا دیا ہے ایک طرف اپنے پیدا کردہ قبائلی شخصیات سے مسنگ پرسنز کو منظر عام پر لا رہے ہیں تو دوسری طرف سینکڑوں کی تعداد میں بلوچستان کے نوجوانوں کو اٹھایا جا رہا ہے پاکستان کو نیا عمرانی معائدے کی ضرورت ہے ملک کو جس بحرانوں کا سامنا ہو رہا ہے اسکی اصل وجہ بے جا اور فضول اخراجات کے علاوہ مالی بدانتظامی سیاست اور پارلیمنٹ میں غیر آئینی مداخلت کے ہونے سے ہے,
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مہرگڑھ میں کچھی پریس کلب ڈھاڈر کے صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئیکہا،سابق وزیراعلی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کچھی کے دورے پر اپنے تاریخی گاوں مہرگڑھ پہنچنیتوعلاقے کے معتبرین سیاسی وسماجی اور قبائلی رہنماں نے ان کا خیر مقدم کیاملاقات میں علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہا کہ پاکستان میں معاشی مشکلات اور دہشت گردی اور سیاسی بحران کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہناتھا کہ جب تک آئین اور پارلیمنٹ میں بے جامداخلت کو ختم نہیں کیا جاتا اور ان کرداروں کا محاسبہ کیئے بغیر ملک میں بہتر حالات کی توقعہ ایک خواب ہوگا موجودہ حالات میں دہشت گردی سیاسی بحران اور معاشی بدحالی کی اصل وجہ بے جا اخراجات مالی بدانتظامی کے علاوہ ہر ادارہ اپنی اپنی آئینی حدود میں کام کرے تو اس کا حل ممکن ہے معاشی بدحالی اور لاپتہ افراد کا معاملہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین سے زیادہ اہم ہے کیونکے اس طرح کے ماورائے آئین اور قانون اقدامات فیڈریشن سلامتی کے لیے خطرہ ہیں جس کی بدولت یہاں بے چینی خلفشار اور بدامنی میں کمی واقعے نہیں ہوسکتی انہوں نے کہا کہ ضلع کچھی میں قبائلی اور زمینی تنازعات کے متعلق انکا کہنا تھا کہ ہماری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ تنازعات کا فوری اور دیر پا حل نکالا جائے آج بھی اپنے بس اور روایات کے مطابق یہ فریضہ سرانجام دینے میں کوئی کمی نہیں کرینگے میرا یہ دورہ زیادہ تر اپنے ذاتی اور قبائلی امور کے حوالے سے ہے۔
Follow GoonjLive On Facebook , Twitter ,Linkedin, RSS and Youtube



