
کوئٹہ(یو این اے)صوبائی دارلحکومت کوئٹہ میں ایک مہینے میں ادویات کی بلیک مارکیٹنگ اور فقدان کا سلسلہ اپنے عروج پر پہنچ گیا پیٹرولیم مصنوعات قیمتوں اور دالر کی اڑان سے ادویات کی قیمتیں مزید بڑھے گی ، کوئٹہ میں جان بچانے والی کینسر،کیڈنی ٹرانس پلانٹ ، لیور ٹرانس پلانٹ ، تھلمسیاں ، ڈائیلائسز کی ادویات ایک جانب ناپید تو دوسری جانب ان کی قیمتوں میں 50فیصد اضافہ ہو گیا ہے ادوایات کی مینو پکچر ز مقامی ڈسٹی بیوٹرز کے ذریعے سپلائی نہیں کرائی جاتی ہے مارکیٹ میں غیر متعلقہ لوگوں کے ذریعے مہنگے داموں ادویات فروخت کررہے ہیں ادویات لائنس یافتہ افراد کو نہیں مل رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار سیکرٹری جنرل آل بلوچستان میڈیکل اسٹورایسو سی ایشن سید اکبر شاہ ، چیئرمین سید نصیب اللہ ، نائب صدر لیاقت علی کاکڑ ، ثنار احمد خان اچکزئی ودیگر نے خبر رساں ادارے یو این اے کی سروے ٹیم سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوںنے کہاکہ کیڈنی ٹرانسپلانٹ کی پرانی قیمت 12ہزار اب 25ہزار تک قیمت پہنچ چکی ، کیڈنی ٹرانس پلانٹ 800 روپے سے بڑھ کر 16ہزار 500 روپے ہوگیا تھلمسیاں 8ہزار سے بڑھ کر 11ہزار 900روپے تک بڑھ گیا ڈائیلائسز کی انجکشن 600 سے بڑھ کر 1500کا بھی نہیں مل رہے ہیں کمپنیوں کی بلیک مارکیٹنگ بہت زیادہ ہے جب کہ اس کے مقابلے میں عام ادویات ،شوگر ، بلڈپریشر ، ملیریاں بخارکی ادویات 35 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ شوگر انسولسین 70/30 آٹھ سو سے بڑھ کر 1143روپے کا ہوگیا ،
بلڈ پریشر800 روپے سے بڑھ کر 1520روپے کا ہوگیا بخار کی ادویات 18روپے فی پتا مل رہا تھا اب 25روپے تک بڑھ گیا ہے معدہ کی گولیاں 440روپے سے بڑھ کر اب 650 روپے کا ہوگیا ۔ مقامی ڈسٹی بیوٹرز اور ایسویس ایشنز مالکان نے ادویات کی بحران اور مہنگی ہونے کا ذمہ دار مارکیٹ میں مینو پکچرز قرار دیدیا ہے ، کہا ہے کہ ڈسٹی بیوٹرز کے ذریعے سپلائی نہ کرانے اور غیر متعلقہ لوگوں کے ذریعے مہنگے داموں ادویات ہم پر فروخت کرررہے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کے بعد ادویات کی مزید مہنگا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہاہے جس کے اطلاعات موصول ہورہے ہیں۔
Follow GoonjLive On Facebook , Twitter ,Linkedin, RSS and Youtube



