بلوچستانتازہ ترینپاکستان

بلوچستان میں آٹے کابحران بدستورجاری

کوئٹہ(یو این اے )متعلقہ حکام کی مبینہ عدم توجہی کے سبب بلوچستان میں آٹے کابحران بدستورجاری، مارکیٹ میں آٹے کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں آسکی،20کلوسرکاری آٹے کی بوری سے لوگوں کی ضروریات پوری نہیں ہورہے، بیروزگاری اورمہنگائی سے تنگ عوام کوشدیدمالی مشکلات کاسامناکرناپڑرہا ہے۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں آٹے کے بحران کی صورتحال ا ب بھی جاری ہے ، صوبائی حکومت اورمحکمہ خوراک کے حکام کی مبینہ عدم توجہی کے سبب مارکیٹ میں آٹے کی قیمتوں میں کمی کی بجائے مزیداضافہ ہورہاہے۔کوئٹہ کے مقامی مارکیٹ میں20کلوآٹے کی بوری 2800روپے میں فروخت کیاجارہا ہے، مہنگائی اوربیروزگاری کے ستائے عوام کی مشکلات بھی بڑھ گئے ہیں۔شہریوں نے بتایاکہ آٹاانسان کی بنیادی ضرورت ہے جس کے بغیرگزارہ ممکن نہیں ہے ، انہوں نے بتایاکہ روٹی کی جگہ کوئی دوسری خوراک نہیں لے سکتا مگرصوبائی حکومت اورمحکمہ خوراک کی مبینہ عدم توجہی کے سبب بلوچستان میں آٹے کابدترین بحران جاری ہے۔صوبائی حکومت کی جانب سے سستاآتاپوائنٹ توقائم کئے گئے ہیں مگرطویل لائن میں کھڑے ہوکرانتظارکے بعد ایک بوری آتابمشکل مل جاتا ہے ، مذکورہ سستاسیل پوائنٹس میں دوسے تین سوبوری آٹالایاجاتا ہے جس سے لوگوں کی ضروریات پوری نہیں ہورہے ہیں ، بڑی تعدادمیں لوگ خالی ہاتھ مایوس ہوکرلوٹ جاتے ہیں جوباعث تشویش ہے۔ محکمہ خوراک کے ذرائع کے مطابق پاسکو سے 2 لاکھ گندم کی بوریاں خریدے ہیں جو بلوچستان پہنچ گئے جو کوئٹہ ، خضدار ، پشین اورژوب میں عوام کو فراہم کرنے کیلئے بھیج دیئے ہیںجبکہ 90 ہزار گندم کی بوریاں فلورملز کو دے دی گئی ہیں۔ محکمہ خوراک حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا ماہنامہ 12 لاکھ گندم بوریاں ضرورت ہے جبکہ پاسکو سے صرف 2 لاکھ بوریاں خریدی گئیں اس لیے قیمتوں میں تاحال کمی نہ آسکی۔

Follow GoonjLive On Facebook , Twitter ,Linkedin, RSS and Youtube

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button