
خطہ خوفناک صورت حال سے نکالنے کے لئے قومی بیانیہ تشکیل دیں:محمود خان اچکزئی
کوئٹہ ،پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہاہے کہ جمہوری بیانیے کی تشکیل و تعبیر نو کیلئے سائنسی علوم و معاشی ترقی درکار ہیںمعاشرے و تمدن میں رواداری اور تعمیری ماحول کی تشکیل و تعبیر نو کے لئے مکالمے و ڈائلاگ کا آغاز ضروری ہے تاکہ ممکنہ طور پر وسائل کی ضیاع روکنے اور تہذیب و معاشرت میں توانائی و دانش کو فروغ دیا جاسکے قومی شناخت اور درست مقاصد کے لئے جدوجھد و جستجو اور تخلیق و تدبیر کی نئی جہتیں تلاش کرنے کا ادراک و احساس زندہ معاشرے کی پہچان ہے ریاستی مقتدرہ و اشرافیہ اور اسٹیٹس کو فریز کئے بغیر تعبیر نو و دانش مندی کی آرزو مندی ممکن نہیں ہے ان خیالات کا اظہار 21 ویں صدی کے معروف و ممتاز دانشور و مصنف پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان کی قیادت میں اعلی سطحی وفد نے پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ و پی ڈی ایم کے مرکزی رہنما محمود خان اچکزئی سے ملاقات و تبادلہ خیال کے موقع پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا وفد نے اچکزئی صاحب سے کوئٹہ میں ان کے رہائش گاہ پر تفصیلی ملاقات کی وفد میں مجلس فکر و دانش علمی و فکری مکالمے کے سربراہ عبدالمتین اخونزادہ ، محاذ استقلال کشمیر کے سربراہ محمد سلیم وانی ایڈووکیٹ ، نوید اقبال ،وقاص احمد خان اور ریان احمد خان بھی شامل تھے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ قومی سوال کا تقاضا ہے ہم متحد ہو کر عوام و نوجوانوں کے مسائل اور سیاسی تربیت و تعلیم کا انتظام کریں ریاست و حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خطے کو خوفناک صورت حال سے نکالنے کے لئے قومی بیانیہ تشکیل دیں افغانستان میں حکومتوں کی تبدیلیاں ناروا ضابطے و جنگوں سے نہیں بلکہ جمہوری نظام زندگی و سماجیات کے امکانی مستقبل کے لئے جرگے و تمدنی ترقی کا راستہ اختیار کیا جانا چاہئے تاکہ ممکنہ طور پر خوفناک الزام تراشیوں اور خانہ جنگیوں سے قوم و ملت کو نکال سکیں _ کشمیریوں کے حق خودارادیت کا موقع فراہم کیا جانا اقوام عالم اور باضمیر انسانوں کی بنیادی ذمہ داری ہیں جسے بالآخر پورا ہو کر رہنا ہے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان نے کہا کہ کشمیر کے تنازع کا حل تلاش کئے بغیر ہندوستان و پاکستان دونوں مشکلات سے بھرپور زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ظلم و استہزا اور دہشت و سماجی نا انصافی کا چلن چلنے والی نہیں ہے ظلم و جبر کے خلاف میدان عمل میں جدوجھد و مزاحمت ہی زندگی ہے کشمیریوں کے مستقبل سے در پردہ مفادات تلاش کرنے والے غداری کے مقدمے میں قابل گرفت ہیں جدوجھد و مزاحمت کے شمع و دئیے روشن کرنے کے لئے ہماری نسلیں بیدار ہو چکے ہیں اقوام عالم کے صف میں کھڑے ہونے اور باوقار زندگی گزارنے کا فیصلہ اٹل ہیںعبدالمتین اخونزادہ نے کہا کہ جمہوری قدروں کی حفاظت و عظمت زندگی کو حاصل قرار دیا جاسکتا ہے جنگوں سے نکل کر لائحہ عمل طے کرنے اور غربت و پسماندگی کے شکار اقوام کے لئے نئے پیراڈایم میں ترقیاتی اپروچ اختیار کرنے اور نئے زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق پالیسیاں و اقدامات تجویز کئے جاتے ہیں ان رحجانات و ترجیحات کے مطابق پالیسیاں تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ ممکنہ طور پر مفید اور ثمر بار ترقیاتی اپروچ اختیار کیا جاسکے
Follow GoonjLive On Facebook , Twitter ,Linkedin, RSS and Youtube
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ قومی سوال کا تقاضا ہے ہم متحد ہو کر عوام و نوجوانوں کے مسائل اور سیاسی تربیت و تعلیم کا انتظام کریں ریاست و حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خطے کو خوفناک صورت حال سے نکالنے کے لئے قومی بیانیہ تشکیل دیں افغانستان میں حکومتوں کی تبدیلیاں ناروا ضابطے و جنگوں سے نہیں بلکہ جمہوری نظام زندگی و سماجیات کے امکانی مستقبل کے لئے جرگے و تمدنی ترقی کا راستہ اختیار کیا جانا چاہئے تاکہ ممکنہ طور پر خوفناک الزام تراشیوں اور خانہ جنگیوں سے قوم و ملت کو نکال سکیں
محمود خان اچکزئی



