
عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے فیصلہ کیا ہےکہ جمعےکو لانگ مارچ کر رہا ہوں، لبرٹی چوک لاہور سے ہمارا لانگ مارچ شروع ہوگا، ہمارا لانگ مارچ جمعےکی صبح 11 بجے شروع ہوگا، ہم جی ٹی روڈ سے عوام کو ساتھ لیتے ہوئے اسلام آباد پہنچیں گے،ہمارا مارچ پُر امن احتجاج ہوگا، ہم پر امن احتجاج کرتے ہیں ہمارے جلسوں میں فیملیز آتی ہیں، ہم لڑائی کرنے نہیں جارہے نہ ہم ریڈ زون میں جا رہے ہیں، ہم وہاں جلسہ کریں گے جہاں عدالتوں نے ہمیں اجازت دی ہوئی ہے، ہم نے سب کو پر امن رہنےکی ہدایت کی ہے۔کورونا سے نکل کر 17 سال بعد ملک کی سب سے بہتر گروتھ ریٹ تھی، ہم نے کسانوں کی مدد کی اور بہترین فصلیں ہوئیں، ہماری آئی ٹی کی ایکسپورٹ 3 گنا بڑھ گئی تھیں، ہمارے بلین ٹری سونامی منصوبے کو دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا، ہمارے ہیلتھ کارڈ جیسا منصوبہ امیر ملک بھی نہیں کر سکتے تھے فضل الرحمان نے ہمارے خلاف 2 مارچ کیے، بلاول نے بھی ایک مارچ کیا، مریم نواز نے بھی ایک لانگ مارچ کیا جو گوجر خان میں ہی رہ گیا تھا، اس وقت توکسی کو خیال نہیں آیا کہ ملک کے معاشی حالات ٹھیک نہیں۔ فضل الرحمان نے ہمارے خلاف 2 مارچ کیے، بلاول نے بھی ایک مارچ کیا، مریم نواز نے بھی ایک لانگ مارچ کیا جو گوجر خان میں ہی رہ گیا تھا، اس وقت توکسی کو خیال نہیں آیا کہ ملک کے معاشی حالات ٹھیک نہیں۔



