
کوئٹہ (یو این اے) سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کے پاس سرکاری دفاتر چلانے کے لیے پیسے نہیں، لیکن اس کے باوجود نئے صوبے بنانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے حصے میں کٹوتی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔بلوچستان اسمبلی کے جاری اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے این ایف سی حصے میں کٹوتی کسی صورت قبول نہیں کی جاسکتی اور اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقین کو متحد ہونا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے مالی حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ مقف اختیار کرنا ضروری ہے۔ اگر بلوچستان کی سیاسی قیادت اس اہم معاملے پر متحد نہ ہوئی تو صوبے کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خبردار کیا کہ اگر این ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی کے معاملے پر مثر آواز نہ اٹھائی گئی تو صوبائی حکومت کے لیے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی مشکل ہوسکتی ہے اور ہر ماہ تنخواہوں کے انتظام کے لیے اسلام آباد کا رخ کرنا پڑے گا۔انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مالی حقوق اور صوبے کے وسائل کے تحفظ کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر مشترکہ جدوجہد کی جائے۔



