
کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے شعبان سے اغوا کیے گئے ایک خاندان کے پانچ افراد اڑھائی سال گزرنے کے باوجود بازیاب نہ ہو سکے، جس کے باعث مغویوں کے اہل خانہ شدید ذہنی اذیت اور اضطراب کا شکار ہیں۔تفصیلات کے مطابق مغویوں میں کوئٹہ کے رہائشی شیخ شان رضا کے تین بیٹے اور دو بھتیجے شامل ہیں، جنہیں تقریبا اڑھائی سال قبل ہرنائی کے علاقے شعبان سے اغوا کیا گیا تھا۔ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود مغویوں کے بارے میں کوئی واضح اطلاع نہ ملنے پر اہل خانہ کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔شیخ شان رضا کے مطابق وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مغویوں کے اہل خانہ کو وزیر اعلی ہاس طلب کیا تھا، جہاں انہیں ابتدا میں بچوں کے شہید ہونے کے بارے میں بتایا گیا۔ تاہم ان کے بقول اسی رات وزیر اعلی نے فون کرکے آگاہ کیا کہ تازہ اطلاعات کے مطابق بچے زندہ ہیں اور انہیں جلد بازیاب کرالیا جائے گا۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس یقین دہانی کے باوجود انہیں تاحال مغویوں کے بارے میں کوئی واضح اطلاع فراہم نہیں کی گئی، جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے ملاقات کے لیے وقت بھی نہیں دیا جا رہا، جس سے ان کی بے چینی مزید بڑھ گئی ہے۔مغویوں کے اہل خانہ نے کور کمانڈر کوئٹہ سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیں اور پانچوں مغویوں کی بازیابی کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں تاکہ خاندان کو طویل انتظار اور اذیت سے نجات مل سکے۔



