
کوئٹہ (یو این اے)سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے کوئٹہ کے صارفین کو مبینہ طور پر بھاری گیس بل بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں صرف 26 یونٹ گیس استعمال کرنے والے ایک صارف کو 18 ہزار 410 روپے کا بل ارسال کیے جانے پر شہریوں میں تشویش اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ صارفین نے متعلقہ حکام سے معاملے کا فوری نوٹس لینے اور بلوں کی جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا ہے۔صارفین کے مطابق کوئٹہ میں سردی کا باقاعدہ آغاز بھی نہیں ہوا، تاہم بھاری گیس بل موصول ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف گیس کی پائپ لائنوں میں گیس کے بجائے ہوا آنے کی شکایات ہیں، تو دوسری جانب معمولی مقدار میں گیس استعمال کرنے والے صارفین کو بھی ہزاروں روپے کے بل بھیجے جا رہے ہیں۔شہریوں نے کہا کہ 100 یونٹ سے کم گیس استعمال کرنے والے صارفین کو 18 ہزار روپے سے زائد کے بل بھیجنا باعثِ تشویش ہے، خصوصا ایسے حالات میں جب انہیں مطلوبہ مقدار میں گیس بھی دستیاب نہیں ہوتی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب گیس کی فراہمی ہی متاثر ہے تو صارفین سے بھاری بل کیوں وصول کیے جا رہے ہیں۔صارفین نے دعوی کیا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود بھاری بلنگ کا سلسلہ جاری ہے، جو ان کے بقول عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرکے بلوں میں ممکنہ غلطیوں کی نشاندہی کی جائے اور زائد بلنگ کی صورت میں اصلاح کی جائے۔شہریوں نے وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ گیس کے بھاری بلوں کا فوری نوٹس لیا جائے، کم گیس استعمال کرنے والے صارفین کے بلوں کا جائزہ لیا جائے اور صارفین کو مبینہ اضافی بلنگ سے نجات دلانے کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں۔



