بلوچستانتازہ ترین

بلوچستان کے 41میں سے 20 اضلاع میں کوئی تکنیکی تعلیمی ادارہ موجود نہیں، سینیٹر جان محمد بلیدی

نیوٹیک بلوچستان میںموثر کردار ادا نہیں کررہا پارلیمانی سوالات کے نامکمل جوابات پر نیشنل پارٹی کا احتجاج

بلوچستان کے 41میں سے 20 اضلاع میں کوئی تکنیکی تعلیمی ادارہ موجود نہیں، سینیٹر جان محمد بلیدی
بلوچستان کے 41میں سے 20 اضلاع میں کوئی تکنیکی تعلیمی ادارہ موجود نہیں، سینیٹر جان محمد بلیدی

اسلام آباد،کوئٹہ(یو این اے ) نیشنل پارٹی کے سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر سینیٹر جان محمد بلیدی نے بلوچستان میں تکنیکی تعلیم کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے 41 میں سے 20 اضلاع میں سرے سے کوئی تکنیکی تعلیمی ادارہ موجود نہیں، جبکہ حکومت اور متعلقہ ادارے عوام کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہیں۔سینیٹ اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے قومی فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے ادارے (نیوٹیک) کے ساتھ منسلک سرکاری و نجی تکنیکی اداروں کی تعداد، ان میں زیر تعلیم طلبہ اور فراہم کیے جانے والے وظائف کی تفصیلات طلب کیں۔ تاہم، ان کے مطابق متعلقہ محکمہ تعلیم مکمل معلومات فراہم نہیں کرسکا۔اجلاس میں فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں نیوٹیک کے تحت مجموعی طور پر 1,535 ادارے کام کررہے ہیں، جن میں پنجاب کے 792، آزاد جموں و کشمیر کے 93، اسلام آباد کے 116 اور بلوچستان کے صرف 93 ادارے شامل ہیں۔ بلوچستان کے ان 93 اداروں میں سے 47 کوئٹہ میں قائم ہیں۔سینیٹر جان محمد بلیدی نے مکمل تفصیلات فراہم نہ کیے جانے پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا اور مطالبہ کیا کہ معاملے کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیوٹیک بلوچستان میں مثر انداز میں کام نہیں کررہا، جبکہ موجودہ حالات میں تکنیکی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نیوٹیک اور محکمہ تعلیم پارلیمانی سوالات کے مناسب جوابات فراہم نہیں کررہے، جبکہ وزیر تعلیم بھی پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دیتے اور سوالات کے جوابات دینے کے لیے اجلاس میں نہیں آتے۔نیشنل پارٹی کے سینیٹر نے کہا کہ بلوچستان کو تعلیم کے شعبے میں یکسر نظرانداز کیا جارہا ہے، جس پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کا جائزہ لینے پر بھی زور دیا کہ نیوٹیک کے تحت فراہم کیے جانے والے وظائف اور اس سے منسلک تعلیمی اداروں کی کارکردگی اور نتائج کس حد تک مثر ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ تکنیکی تعلیم سے متعلق اہم مسائل پر دوبارہ سوالات جمع کرائے جائیں گے اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے بھرپور کوشش کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button