بلوچستانتازہ ترینپاکستان

لاپتا افراد کی فہرست میں 14 ہزار ناموں کا مکمل ڈیٹا موجود نہیں، میر ضیا لانگو

اختر مینگل کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی فہرست میں بڑی تعداد کا ریکارڈ نہ مل سکا، وزیر داخلہ

لاپتا افراد کی فہرست میں 14 ہزار ناموں کا مکمل ڈیٹا موجود نہیں، میر ضیا لانگو
لاپتا افراد کی فہرست میں 14 ہزار ناموں کا مکمل ڈیٹا موجود نہیں، میر ضیا لانگو

کوئٹہ یو این اے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے لاپتا افراد کے معاملے پر سردار اختر مینگل کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی فہرست پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تقریبا 15 ہزار لاپتا افراد پر مشتمل فہرست کی تحقیقات کے دوران تقریبا 14 ہزار ناموں کے حوالے سے مکمل اور قابلِ تصدیق ڈیٹا دستیاب نہیں تھا۔نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ سردار اختر مینگل نے قومی اسمبلی میں تقریبا 15 ہزار افراد کے لاپتا ہونے کی فہرست جمع کرائی تھی، تاہم حکومت کی جانب سے فہرست کی جانچ پڑتال کے دوران بڑی تعداد میں ایسے نام سامنے آئے جن کے بارے میں مکمل معلومات موجود نہیں تھیں۔صوبائی وزیر داخلہ کے مطابق متعدد افراد کے صرف نام درج تھے، جبکہ شناختی کارڈ نمبرز، رہائشی پتے، خاندان کے کوائف یا دیگر بنیادی معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی شخص کے لاپتا ہونے کی تصدیق کے لیے محض نام کافی نہیں بلکہ شناخت اور دیگر ضروری کوائف کا ہونا بھی ضروری ہے تاکہ متعلقہ ادارے معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کرسکیں۔میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ اگر کسی شخص کے لاپتا ہونے کا دعوی کیا جاتا ہے تو اس کے بارے میں مکمل معلومات متعلقہ اداروں کو فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ کیس کو سنجیدگی سے دیکھا جاسکے۔ ان کے بقول صرف ہزاروں ناموں پر مشتمل ایسی فہرست جس میں بنیادی شناختی معلومات موجود نہ ہوں، مسئلے کے حل کے بجائے معاملے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔انہوں نے کہا کہ لاپتا افراد کا معاملہ انتہائی حساس ہے اور اس پر سیاست کرنے کے بجائے حقائق اور شواہد کی بنیاد پر بات ہونی چاہیے۔ حکومت بلوچستان ایسے معاملات کو نظر انداز نہیں کررہی بلکہ دستیاب ریکارڈ اور قانون کے مطابق ہر کیس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر کسی خاندان کا فرد واقعی لاپتا ہے تو اس کے اہل خانہ کی پریشانی اور تکلیف اپنی جگہ ایک حقیقت ہے اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ایسے کیسز کی تحقیقات کرکے حقائق سامنے لائے جائیں۔ ان کے مطابق ہر کیس کو الگ بنیاد پر دیکھنا ضروری ہے کیونکہ بلوچستان میں امن و امان، دہشت گردی، مسلح کارروائیوں اور دیگر حساس معاملات کے باعث مختلف نوعیت کے کیسز سامنے آتے رہتے ہیں۔میر ضیا اللہ لانگو نے غیرمصدقہ اعداد و شمار کے ذریعے عوام میں بے چینی اور بے اعتمادی پیدا کرنے کی کوششوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی رہنماں اور ذمہ دار حلقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو درست معلومات فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی سیاسی رہنما یا فرد کے پاس لاپتا افراد کے حوالے سے مستند معلومات، شناختی کارڈ نمبرز، رہائشی پتے، ایف آئی آرز، مقدمات یا دیگر قابلِ تصدیق دستاویزات موجود ہیں تو انہیں متعلقہ فورمز پر پیش کیا جائے تاکہ حکومت ان معاملات کی تحقیقات کرسکے۔صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل الزام تراشی، غیرمصدقہ دعووں اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں نہیں بلکہ سنجیدہ مذاکرات، شفاف تحقیقات، قانون کی بالادستی اور عوام کو درست معلومات کی فراہمی میں ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی خاندان کو اپنے کسی فرد کے لاپتا ہونے کی شکایت ہو تو باقاعدہ طریقہ کار کے تحت متعلقہ اداروں اور فورمز سے رجوع کیا جائے تاکہ شکایت درج کرکے تحقیقات کی جاسکیں اور اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ حکومت کے لیے ہر شہری کی جان، مال اور بنیادی حقوق کا تحفظ اہم ہے، تاہم کسی بھی شہری کے بارے میں مکمل معلومات اور شواہد کے بغیر حتمی رائے قائم کرنا مناسب نہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button