
چاغی: سابق صوبائی وزیر الحاج میر علی محمد نوتیزئی نے نادرا کی جانب سے ضلع چاغی کے ہزاروں خاندانوں کے شناختی کارڈ بلاک کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے محب وطن پاکستانی شہریوں کے ساتھ ناانصافی قرار دیا ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ بلاک ہونے کے باعث ہزاروں طلبہ و طالبات، سرکاری ملازمین، بینک کھاتہ داران، تاجر برادری، پنشنرز اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ افراد مشکلات کا شکار ہیں۔میر علی محمد نوتیزئی نے کہا کہ ان کے بڑے بھائی سابق صوبائی وزیر شہید الحاج عید محمد نوتیزئی دو مرتبہ پاکستان مسلم لیگ کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی اور صوبائی وزیر رہے، جبکہ وہ خود بھی دو مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی اور صوبائی وزیر رہ چکے ہیں، اس کے باوجود ان کے خاندان کے شناختی کارڈ بھی بلاک کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف ان کے خاندان تک محدود نہیں بلکہ ضلع چاغی کے ہزاروں خاندان اس سے متاثر ہیں۔ ان کے مطابق ان کے آبا اجداد نے پاکستان کی سالمیت، امن اور دفاع کے لیے قربانیاں دی ہیں، جبکہ ایران میں آباد رشتہ داروں کے ساتھ خونی رشتے ہونا کسی جرم کے مترادف نہیں۔سابق صوبائی وزیر نے کہا کہ وہ اور ضلع چاغی کے دیگر متاثرہ خاندان اپنی پاکستانی شہریت کے حوالے سے تمام ضروری ثبوت اور دستاویزات فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم شناختی کارڈ بلاک کیے جانے کا سلسلہ افسوسناک ہے۔انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر سے اپیل کی کہ نادرا حکام سے معاملے پر فوری بازپرس کی جائے، شناختی کارڈز بلاک کیے جانے کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں اور متاثرہ شہریوں کے بلاک شناختی کارڈز بحال کیے جائیں تاکہ انہیں درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔



