
کوئٹہ: معاون برائے داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر تھریٹ یا سیکیورٹی سے متعلق گردش کرنے والا نوٹیفکیشن مکمل طور پر جعلی، بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام سے اپیل کرتی ہے کہ غیر مصدقہ اور جعلی اطلاعات پر ہرگز کان نہ دھریں اور صرف سرکاری و مستند ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔بابر یوسفزئی نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے۔ تمام قانون نافذ کرنے والے اور سیکیورٹی ادارے مکمل طور پر الرٹ ہیں اور امن و امان کے قیام کے لیے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال اور امن و امان کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، جبکہ صوبائی حکومت متعدد بار خبردار کر چکی ہے کہ جعلی اطلاعات، افواہ سازی اور گمراہ کن پروپیگنڈا ناقابلِ برداشت ہے۔معاون برائے داخلہ نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر جعلی نوٹیفکیشن، افواہیں اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی اور ایسے عناصر قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔انہوں نے ایک بار پھر عوام سے اپیل کی کہ وہ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے صرف سرکاری اور مستند ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات پر یقین کریں اور غیر تصدیق شدہ خبروں یا افواہوں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ایلیٹ فورس کوئٹہ سے منسوب ایک مبینہ سرکاری مراسلہ گردش کر رہا ہے، جس میں 7 اگست کے حوالے سے ممکنہ سیکیورٹی خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔ مراسلے میں دعوی کیا گیا ہے کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کی جانب سے مختلف گروپس میں دھمکی آمیز پیغامات شیئر کیے جا رہے ہیں۔مبینہ مراسلے میں ایلیٹ فورس کے ونگ کمانڈرز، ڈی ایس پی سیکیورٹی قاسم لائن اور دیگر متعلقہ افسران کو اپنے اپنے علاقوں میں سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کرنے، گشت بڑھانے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے مکمل چوکسی اختیار کرنے کی ہدایت درج ہے۔ اس میں متعلقہ افسران سے کیے گئے اقدامات کی رپورٹ بھی طلب کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔تاہم اس مراسلے کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ حکومت بلوچستان اس سے قبل سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے سیکیورٹی سے متعلق جعلی اور غیر مصدقہ نوٹیفکیشنز سے متعلق عوام کو خبردار کر چکی ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صرف مستند سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔



