بلوچستانتازہ ترینپاکستان

بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

مقامی بڈرز کو نظرانداز، قواعد کے برعکس تقرریوں اور ٹینڈرز پر عوامی حلقوں کے سنگین سوالات

تعلیم کے شعبے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے والوں کا فوری احتساب کیا جائے،عوامی حلقوں کا مطالبہ
تعلیم کے شعبے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے والوں کا فوری احتساب کیا جائے،عوامی حلقوں کا مطالبہ

کوئٹہ(یو این اے) بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ سے متعلق باخبر ذرائع نے انتہائی تشویشناک انکشافات کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ادارے میں بڑے پیمانے پر مبینہ مالی اور انتظامی بے ضابطگیاں جاری ہیں، جن کے باعث صوبے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی راہ میں سنگین رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بورڈ کے بعض بااثر افسران اور عناصر نے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے ادارے کے شفاف نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ذرائع کے مطابق جن مقامی بڈرز کو درسی کتب کی اشاعت اور فراہمی کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں، انہوں نے اپنی ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا کیں، تاہم اس کے باوجود انہیں مختلف انتظامی اور تکنیکی جواز پیش کرکے غیر ضروری طور پر تنگ کیا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بلوچستان کے مقامی اور تجربہ کار بڈرز کو آئندہ مراحل سے باہر کرنے کی مبینہ کوششیں جاری ہیں، جبکہ ان کی جگہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے چند من پسند بڈرز کو شامل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق ان بڈرز کے بارے میں ماضی میں بھی مختلف نوعیت کے تحفظات سامنے آتے رہے ہیں اور ان پر جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI) اور کٹ پیسٹ مواد کے استعمال کے ذریعے غیر معیاری کام کرنے کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ایک اور اہم معاملہ مختلف ٹینڈرز کی مبینہ غیر قانونی منظوری کا ہے، جہاں قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح بورڈ میں بھرتیوں کے عمل پر بھی سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ متعدد اہم آسامیوں، خصوصا ریسرچ آفیسر جیسے تکنیکی عہدوں پر ایسے افراد کو تعینات کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جن کا متعلقہ شعبے سے مطلوبہ تعلیمی یا پیشہ ورانہ تعلق نہیں۔ ذرائع کے مطابق بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پبلک اکانٹس کے سامنے بھی مبینہ طور پر ایسے دستاویزی ریکارڈ اور اعداد و شمار پیش کیے گئے جن کے ذریعے اصل صورتحال کو چھپانے اور کمیٹی کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف مالی نظم و نسق بلکہ پارلیمانی نگرانی کے نظام پر بھی ایک سنگین سوال ہوگا۔ ذرائع نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ رواں سال درسی کتب کی چھپائی اور دیگر منصوبوں میں کروڑوں روپے کی بچت کے دعوے کیے گئے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس مقصد کے لیے مختص تمام فنڈز جاری کیے گئے، بلکہ اضافی فنڈز بھی حاصل کیے گئے۔ ذرائع کے مطابق ان دعوں اور مالی ریکارڈ کے درمیان موجود فرق کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم بلوچستان کے صوبائی وزیر اور سیکرٹری کو ان تمام معاملات سے آگاہ کیا جا چکا ہے، تاہم تاحال کسی مثر کارروائی یا واضح مقف کا سامنے نہ آنا کئی نئے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ان الزامات کی فوری اور شفاف تحقیقات نہ کرائی گئیں تو بلوچستان میں پہلے سے مشکلات کا شکار تعلیمی نظام مزید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔تعلیمی، سماجی اور عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے تمام مالی، انتظامی، بھرتیوں اور ٹینڈرنگ کے معاملات کی اعلی سطح پر آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عناصر کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے، اور صوبے کے تعلیمی مستقبل کو ذاتی مفادات کی نذر ہونے سے بچایا جائے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button