بلوچستانتازہ ترینپاکستان

تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کی جانب سے بلوچستان میں7اگست کو شٹر ڈاون ہڑتال ہوگا

8 اگست سے ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی غیر معینہ مدت کے لیے پہیہ جام

تجارتی سامان کی ترسیل مکمل معطل رہے گی
تجارتی سامان کی ترسیل مکمل معطل رہے گی

کوئٹہ (یو این اے )بلوچستان میں تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کی جانب سے احتجاجی تحریک نے شدت اختیار کرلی ہے۔ انجمن تاجران بلوچستان (رجسٹرڈ)نے میٹروپولیٹن کارپوریشن کی مبینہ کارروائیوں، قومی شاہراہوں پر امن و امان کی خراب صورتحال، دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، تاجروں کو درپیش مسائل اور مطالبات پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف 7 اور 8 اگست کو کوئٹہ شہر بھر میں مکمل شٹر ڈان ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب گڈز ٹرانسپورٹرز نے 8 اگست سے ملک بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے پہیہ جام ہڑتال کرتے ہوئے اشیائے ضروریہ سمیت ہر قسم کے تجارتی سامان کی ترسیل مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہیانجمن تاجران بلوچستان (رجسٹرڈ)کے صدر رحیم آغا، جنرل سیکرٹری ولی افغان، حاجی اسلم ترین، حاجی ظہور کاکڑ، حاجی فاروق شاہوانی، حاجی داد خلجی، حاجی عبدالنافی نورزئی، راجہ محمد ایوب گجر، ولی محمد ترین، اسد خان، اکمل خان، مطیع اللہ، بخت کاکڑ، عبدالحکیم الکوزئی، بشیر خان سنجرانی، زبیر احمد لہڑی اور دیگر رہنماں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے آئے روز تاجروں کی تذلیل، دکانوں سے سامان سڑکوں پر پھینکنے، تجاوزات کے نام پر مبینہ ناروا کارروائیوں اور حلیم پلازہ کے متاثرہ تاجروں کو تاحال معاوضہ ادا نہ کیے جانے سے تاجروں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے رہنماں کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مختلف واقعات میں متاثر ہونے والے تاجروں کے نقصانات کا ازالہ بھی نہیں کیا گیا، جبکہ متعدد بار حکام کی توجہ دلانے کے باوجود ان کے مسائل حل نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مسلسل نظرانداز کیے جانے کے باعث تاجر برادری احتجاج پر مجبور ہوئی ہے بیان میں کہا گیا کہ کراچی تا کوئٹہ، کوئٹہ تا تفتان، کوئٹہ تا ژوب اور دیگر قومی شاہراہوں پر بدامنی، مال بردار گاڑیوں کی لوٹ مار، مسافر بسوں، ٹرکوں اور گیس بردار گاڑیوں پر حملوں، گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور بے گناہ شہریوں کے قتل و زخمی ہونے کے مسلسل واقعات نے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے بلکہ تاجروں اور سرمایہ کاروں میں بھی خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے تاجر رہنماں نے الزام عائد کیا کہ جناح کلاتھ مارکیٹ، عسکری مارکیٹ اور دیگر مارکیٹوں کے کرایہ دار دکانداروں کو بے دخل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور عدالتی فیصلوں کے باوجود تاجروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں انہوں نے حکومت بلوچستان، چیف سیکرٹری، کمشنر کوئٹہ ڈویژن، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے مطالبہ کیا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے فوری طور پر مذاکرات کیے جائیں اور عدالتی فیصلوں، قانونی دستاویزات اور حقائق کی روشنی میں تمام مسائل کا مستقل اور منصفانہ حل نکالا جائے انجمن تاجران نے کمشنر کوئٹہ ڈویژن کے رویے پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاجروں کے ساتھ غیر مناسب طرز عمل ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ اگر فوری طور پر سنجیدہ مذاکرات کا آغاز نہ کیا گیا اور تاجروں کے آئینی و قانونی حقوق تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک مزید وسیع اور سخت کی جائے گی، جس کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر ہوگی یو این اے کے مطابق دریں اثنا بلوچستان کے ممتاز ٹرانسپورٹرز اور مختلف ٹرانسپورٹ تنظیموں کے رہنماں دولت لہڑی اور ظاہر شاہ کاکڑ نے مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کی جانب سے دی گئی 7 اور 8 اگست کی شٹر ڈان ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاجر برادری کے مطالبات جائز ہیں اور ٹرانسپورٹرز اس مشکل وقت میں تاجروں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تاجروں کے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے ادھر گڈز ٹرانسپورٹرز نے بھی بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 8 اگست سے ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال شروع کی جائے گی۔ ٹرانسپورٹرز کے مطابق اس دوران ملک بھر میں اشیائے ضروریہ، صنعتی خام مال، درآمدی و برآمدی سامان، تعمیراتی سامان، پھل، سبزیاں، ایل پی جی، سیمنٹ، کھاد اور دیگر تجارتی اشیا کی ترسیل مکمل طور پر معطل کر دی جائے گی گڈز ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے تحفظات اور تاجروں کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رہ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں سپلائی چین شدید متاثر ہونے، تجارتی سرگرمیوں میں تعطل پیدا ہونے اور اشیائے ضروریہ کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں تاجر تنظیموں اور ٹرانسپورٹرز نے تمام مارکیٹ ایسوسی ایشنز، تجارتی تنظیموں، وکلا، سیاسی و مذہبی جماعتوں، صنعتکاروں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ 7 اور 8 اگست کی شٹر ڈان ہڑتال اور 8 اگست سے شروع ہونے والی گڈز ٹرانسپورٹرز کی پہیہ جام ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور تعاون کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ تصادم کے بجائے مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، تاہم اگر ان کے آئینی اور قانونی حقوق مسلسل نظر انداز کیے گئے تو ہر جمہوری اور قانونی طریقے سے اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button