
کوئٹہ یو این اے ہنہ اوڑک کے علاقے میں نوجوان ریاض کاکڑ کی مبینہ ہلاکت کے بعد احتجاج دوبارہ شدت اختیار کر گیا، جہاں اوڑک قبائل نے ہنہ تھانے اور ایف سی ہیڈکوارٹر کے سامنے دھرنا دے دیا ہے۔مظاہرین کے مطابق اوڑک سے تعلق رکھنے والے نوجوان ریاض کاکڑ کو ولی تنگی دوا رود کے مقام پر مبینہ طور پر شہید کیا گیا، تاہم واقعے کے کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود لاش ورثا کے حوالے نہیں کی گئی، جس پر اہل علاقہ میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔احتجاج میں قبائلی عمائدین، نوجوانوں اور مقامی افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ریاض کاکڑ کی میت فوری طور پر اہل خانہ کے حوالے کی جائے اور واقعے کی شفاف و غیر جانبدار تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات سے علاقے میں بے چینی اور خوف کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، اس لیے شہریوں کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔دوسری جانب احتجاج کے پیش نظر ہنہ تھانے اور ایف سی ہیڈکوارٹر کے اطراف سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں جبکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے۔مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ جب تک میت ورثا کے حوالے نہیں کی جاتی اور واقعے کی شفاف تحقیقات کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی، احتجاج جاری رہے گا۔آخری اطلاعات تک ہنہ تھانے اور ایف سی ہیڈکوارٹر کے سامنے دھرنا جاری تھا، جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے واقعے پر باضابطہ مقف سامنے نہیں آیا تھا۔



