
کوئٹہ: ضلع خاران میں پیش آنے والے واقعے کے بعد بلوچستان بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ پولیس،
فرنٹیئر کور (ایف سی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق محکمہ پولیس کی جانب سے جاری ہنگامی ہدایات میں تمام اضلاع کے پولیس افسران اور اہلکاروں کو فوری طور پر اپنی جائے تعیناتی پر پہنچنے، نفری میں اضافہ کرنے اور مکمل اسلحہ و حفاظتی سامان کے ساتھ الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔کوئٹہ میں صوبائی اسمبلی، بلوچستان سول سیکرٹریٹ، وزیراعلی سیکرٹریٹ، گورنر ہاس، آئی جی پولیس آفس، ایف سی ہیڈکوارٹر، ریڈ زون، عدالتوں، ہوائی اڈے، ریلوے اسٹیشن، بجلی و گیس کی تنصیبات، مواصلاتی مراکز اور دیگر حساس سرکاری و قومی تنصیبات کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی اور اسنیپ چیکنگ کا عمل تیز کر دیا گیا ہے، جبکہ اہم شاہراہوں، بازاروں اور حساس مقامات پر پولیس، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ تمام تھانوں کو گشت بڑھانے، مشتبہ افراد اور گاڑیوں کی کڑی نگرانی کرنے اور کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی فوری اطلاع اعلی حکام کو دینے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق ایف سی، بلوچستان کانسٹیبلری، لیویز، کانٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطوں کو بھی مثر بنایا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کی صورت میں فوری اور مشترکہ کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، دورانِ سفر شناختی دستاویزات اپنے ہمراہ رکھیں، غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں، کسی بھی مشتبہ شخص یا سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں اور غیر مصدقہ اطلاعات یا افواہوں کو سوشل میڈیا پر پھیلانے سے اجتناب کریں۔



