بلاگبلوچستانتازہ ترینپاکستان

بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایسا سرکاری ہسپتال جہاں لیڈی ڈاکٹر کا وجود نہیں ہے؟

خواتین مریضوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے اس ذ مہ دار کون ؟خصوصی رپوٹ

خواتین مریضوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے اس ذ مہ دار کون ؟خصوصی رپوٹ
خواتین مریضوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے اس ذ مہ دار کون ؟خصوصی رپوٹ

خضدار(یو این اے)ضلع خضدار کے سب سے بڑے سرکاری طبی مرکز، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ایک مستند ایم بی بی ایس لیڈیز سرجن کی عدم دستیابی خواتین مریضوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ روزانہ بڑی تعداد میں خواتین مختلف جراحی اور دیگر طبی مسائل کے علاج کے لیے ہسپتال کا رخ کرتی ہیں، مگر لیڈیز سرجن نہ ہونے کے باعث انہیں شدید مشکلات اور ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہسپتال میں مرد سرجن اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم بہت سی خواتین معاشرتی اور ذاتی وجوہات کی بنا پر خاتون سرجن سے معائنہ اور علاج کروانے کو ترجیح دیتی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث بعض مریضائیں بروقت علاج سے محروم رہ جاتی ہیں یا انہیں نجی ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے ان پر اضافی مالی بوجھ بھی پڑتا ہے۔عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی کے مطابق بواسیر، جلدی امراض اور دیگر جراحی نوعیت کی بیماریوں میں مبتلا خواتین کو خصوصی طور پر خاتون سرجن کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایسے میں ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ایک قابل اور تجربہ کار ایم بی بی ایس لیڈیز سرجن کی تعیناتی نہایت ضروری ہے تاکہ خواتین کو باعزت، محفوظ اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی نے وزیراعلی بلوچستان، صوبائی وزیرِ صحت، سیکریٹری صحت بلوچستان اور متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ خضدار ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں فوری طور پر ایک ایم بی بی ایس لیڈیز سرجن تعینات کی جائے تاکہ ضلع بھر کی خواتین کو علاج کی بہتر سہولت میسر آ سکے اور انہیں غیر ضروری مشکلات سے نجات ملے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button