بلوچستانتازہ ترین

بلوچستان کے سرکاری ملازمین انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جی ٹی اے

کوئٹہ(یو این اے)گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی بلوچستان کے صوبائی ہیڈ آفس سے جاری کردہ پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کی ملازم کش پالیسیوں کے باعث بلوچستان کے سرکاری ملازمین انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بیان میں وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے دورِ حکومت میں اپنائی گئی ملازمین دشمن پالیسیوں پر شدید تشویش اور سخت ردِعمل کا اظہار کیا گیا۔بیان کے مطابق موجودہ حکومت نے اساتذہ اور ملازمین کو ریلیف دینے کے بجائے مسلسل جارحانہ فیصلوں کے ذریعے انہیں عدم تحفظ کا شکار بنا دیا ہے۔ وفاقی حکومت اس وقت 70 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاونس دے رہی ہے، جبکہ بلوچستان میں سابقہ حکومت نے 25 فیصد کے بجائے بقایا 10 فیصد کم کرکے صرف 15 فیصد ڈی آر اے دیا۔ موجودہ وزیر اعلی بلوچستان نے بجٹ سے اب تک 30 فیصد ڈی آر اے الاونس کی سمری کو سرد خانے کی نذر کر رکھا ہے، حالانکہ یہ سمری خود ان کی قائم کردہ کمیٹی کی سفارشات پر مبنی ہے۔پریس بیان میں سوال اٹھایا گیا کہ کیا بلوچستان کے ملازمین وفاق اور آئین پاکستان کے تحت ان مراعات کے حق دار نہیں؟ بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان ایک پسماندہ صوبہ ہے جہاں سرکاری ملازمین عموما گھر کے واحد کفیل ہوتے ہیں، جن پر مکمل گھریلو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، ایسے میں انہیں الاونسز سے محروم رکھنا قطعی طور پر ناانصافی ہے۔بیان میں واضح کیا گیا کہ وزیر اعلی بلوچستان کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی نے بلوچستان گرینڈ الائنس کی قیادت کے ساتھ متعدد نشستوں میں وفاقی طرز پر ڈی آر اے دینے پر اتفاق کیا، مگر تاحال اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس اپنے جائز حقوق کے لیے پرامن احتجاج کرنے والے ملازمین کو دھمکیاں، شوکاز نوٹسز اور احتجاج پر پابندی جیسے اقدامات کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو جمہوری اور آئینی اصولوں کے منافی ہے۔گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ماضی میں ہمیشہ ملازم دوست رہی ہے، شہید بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں ملازمین کو مراعات دی گئیں، جبکہ حالیہ وفاقی بجٹ میں بھی پیپلز پارٹی نے وفاقی ملازمین کے لیے ایڈہاک الاونس اور 30 فیصد ڈی آر اے کی منظوری میں کردار ادا کیا، مگر بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے باوجود پالیسیاں اس کے برعکس ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ پرامن احتجاج پر ملازمین کو جیلوں میں ڈالنا اور شوکاز نوٹسز جاری کرنا آئین پاکستان سے متصادم ہے، کیونکہ آئین ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔ جی ٹی اے آئینی نے واضح کیا کہ اساتذہ اور ملازمین کسی دبا یا خوف کے سامنے جھکنے والے نہیں اور اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔آخر میں مطالبہ کیا گیا کہ ڈی آر اے سمیت دیگر تمام تسلیم شدہ مطالبات پر فوری عملدرآمد کیا جائے تاکہ بلوچستان کے ملازمین میں پائی جانے والی شدید بے چینی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

وفاق 70 فیصد دے رہا ہے، بلوچستان کے ملازمین کو 30 فیصد ڈی آر اے سے محروم رکھنا ناانصافی ہے، جی ٹی اے آئینی

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button