
عمران خان کی اجازت کے بغیر مذاکرات ممکن نہیں، آئین سے کھلواڑ ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے، محمود خان اچکزئی
اسلام آباد،کوئٹہ(یو این اے )تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اجلاس کے بعد سینئر سیاستدان اور قومی اسمبلی میں بانی پی ٹی آئی کے نامزد اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی بھی سیاسی قوت مذاکرات چاہتی ہے تو پہلے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم عمران خان کی اجازت کے بغیر کیسے مذاکرات کر سکتے ہیں؟ ڈائیلاگ کی شروعات کے لیے ملاقات کرائی جائے۔انہوں نے کہا کہ آئین نے ملک کی وحدت کو برقرار رکھا ہے مگر آج اسی آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ملک میں آئین کی حکمرانی نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ اچکزئی کا کہنا تھا کہ زبان بندی، وعدہ خلافیاں اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزیوں نے حالات کو بدترین بنادیا ہے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایک منتخب عوامی رہنما جیل میں ہے اور اب اس سے ملاقات پر بھی پابندیاں لگا دی گئی ہیں، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔دوسری جانب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ عمران خان کو کسی اور مقام پر منتقل کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ان کے کیسز کو میرٹ پر سنا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی کوشش انارکی میں اضافہ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ملک کو مسائل سے نکالنے کے لیے آئینی راستہ، سیاسی استحکام اور عوامی مینڈیٹ کا احترام ضروری ہے۔



