
کوئٹہ(یو این اے )کوئٹہ کے سب سے بڑے سول ہسپتال میں کروڑوں روپے فنڈز لیکن لوگوں کوخون اور ایکسرے مشین کے ٹیسٹ پرائیویٹ کرانے پڑتے ہیں پرائیویٹ لیبارٹریز کی چاندی ہوگئی۔نجی ٹی وی کے مطابق سول ہسپتال کوئٹہ کے لیبارٹری میں خون ٹیسٹ کی مشین خراب ہونے کی وجہ سے مریضوں کو مجبورا پرائیویٹ لیبارٹریوں کی طرف بھیجا جاتا ہے اسی طرح ایکسرے فلم نہ ہونے کی وجہ سے بھی مریضوں کو پرائیویٹ ایکسرے لیبارٹریوں کی طرف بجھوا یا جاتا ہے جو ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے.
صوبے کے دور دراز سے آنے والے مریض بڑی مشکل سے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ پہنچ کر اس خیال سے کہ ان کا علاج مفت ہوگا لیکن یہاں آکر پتہ چلتا ہے کہ یہاں معمولی دوا بھی میسر نہیں ٹیسٹ اور ایکسرے بھی پرائیویٹ کرنے پڑتے ہیں دوسری جانب نجی لیبارٹری مالکان سادہ لوح مریضوں سے بھاری بھر کم رقم وصول کرتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر مریض اپنا علاج ادھورا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں حتی کہ کینسر کے مریض سرکاری ادویات نہ ہونے کی وجہ سے مجبورا علاج آدھے میں چھوڑ جاتے ہیں دوسری جانب ہر سال محکمہ صحت کروڑوں روپے کا فنڈز لیپس ہوجاتا ہے اس کا ذمہ دار کو ن ہے ؟۔



