تازہ ترینپاکستان

یونانی کشتی حادثہ میں لاپتا افراد کو مردہ قرار دے دیا گیا

یونان کشتی حادثہ میں مرنے والوں میں 298 پاکستانی بھی شامل ہیں

یونان میں کشتی حادثے کے بعد جاری ریسکیو آپریشن کو روک دیا گیا ہے۔ یونانی حکومت کی جانب سے لاپتا ہونے والے تمام افراد کو مردہ قرار دےد یا گیا جن میں 298 پاکستانی بھی شامل ہیں۔میڈیا کے مطابق کشتی حادثہ کے بعد ریسکیو آپریشن کے دوران جن لوگوں کو بچایا گیا ان میں صرف 12 پاکستانی شامل ہیں۔تارکین وطن کی کشتی کو پیش آنے والے حادثے کے بعد ریسکیو آپریشن 4 روز تک جاری رہا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لوگوں کو لے کر جانے والا جہاز کئی روز سے سمندر کے اندر ہی خراب تھا جسے ٹھیک کرنے کے بجائے چھوٹی کشتی سے کھینچا گیا تو وہ الٹ گیا اور لوگ ڈوب گئے۔جو لوگ حادثے کا شکار ہوئے ہیں ان میں سے 135 افراد کا تعلق آزادکشمیر کے مختلف علاقوں سے تھا۔ جبکہ کل 310 پاکستانی اس میں شامل تھے جن میں سے 12 کی جان بچ گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثے میں مرنے والے 79 افراد کی لاشیں مل گئی ہیں مگر ابھی تک ان کی شناخت نہیں ہو سکی۔ اس سانحہ میں مجموعی طور پر 104 افراد کو ریسکیو کیا گیا تھا۔اِدھر یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لوگ ایجنٹوں کے حوالے سے ایف آئی اے کو شکایات کر رہے ہیں اور اب تک 12 افراد نے شکایات درج کرائی ہیں جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اپنی کوششیں شروع کر دی ہیں۔واضح رہے کہ بدھ 14 جون کو یونان کے ساحل پر یہ حادثہ پیش آیا تھا۔ آزادکشمیر کے سب سے زیادہ نوجوان کوٹلی آزادکشمیر کی تحصیل کھوئی رٹہ سے تعلق رکھتے تھے جو اپنے دل میں مستقبل کے سہانے خواب سجائے یورپ کی جانب روانہ ہوئے تھے۔ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ یونان کے ساحل پر ڈوبنے والی کشتی میں زندہ بچ جانے والوں میں سے 12 پاکستانیوں کی شناخت ہو گئی ہے۔وزارت خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یونان میں پاکستانی مشن سفیر عامر آفتاب کی سربراہی میں مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ جاں بحق ہونے اور زندہ بچ جانے والے پاکستانی شہریوں کی شناخت، بازیابی اور امداد فراہم کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مشن 78 برآمد شدہ لاشوں کی شناخت کے عمل میں یونانی حکام کے ساتھ بھی رابطے میں ہے۔ یہ شناختی عمل قریبی خاندان کے افراد (صرف والدین اور بچوں) کے ساتھ ڈی این اے میچنگ کے ذریعے ہوگا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمت کشتی پر سوار ممکنہ مسافروں کے اہل خانہ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ تصدیق کے مقاصد کے لیے یونان میں پاکستان مشن سے ہیلپ لائن نمبرز پر رابطہ کریں۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے حکام کا کہنا ہے کہ یونان کے قریب ڈوبنے والی تارکین وطن کی کشتی سے 500 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔حکام کے مطابق ’خوفناک سانحہ‘ میں لاپتہ ہونے والوں میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی جس میں 78 افراد ہلاک ہوئے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق، ماہی گیری کی کشتی میں 750 افراد سوار تھے جو جنوبی یونان میں پائیلوس سے 50 ناٹیکل میل دورڈوب گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button