
کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر منظور احمد کاکڑنے الزام عائد کیا ہے کہ گورنر بلوچستان ملک عبدالوالی کاکڑ اور انکے بھتیجے مجیدکاکڑ لینڈ مافیاکا کردار ادا کررہے ہیں کچلاک اور اس سے ملحقہ علاقوں میں جبراعام لوگوں اور سرکاری کی اراضی پر قبضہ کیا جارہا ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں وزیراعظم پاکستان اور سپریم کورٹ اس معاملے کا فوری نوٹس لے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جاری کردہ بیان میں کیا انہوں نے کہ ایک جانب بلوچستان نیشنل پارٹی یہ دعوی کرتی ہے کہ موجودہ گورنر بلوچ اور پشتون اقوام کے حقوق کے تحفظ اور مسائل کے حل کے علمبردار ہے مگر دوسری جانب گورنر بلوچستان جیسے عہد ے پر فائز شخصیت اور انکے رشتے دار کچلاک سمیت ملحقہ علاقوں میں ایک سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت عام لوگوں اور سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے میں مصروف عمل ہے جس سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ یہ گورنر کے عہدے کو اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لئے استعمال میں لارہے ہیں افسوسناک امر ہے کہ طاقت کے نشے میں چور گورنر بلوچستان کے بھتیجے مجید کاکڑ نے قانون کی دھجیاں بکھیرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ہماری اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز گورنر بلوچستان کے بھتیجے نے اراضی کی ہیر اپھیری کی کوشش کی جس پر علاقہ تحصیلدار نے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوئے مزاحمت کی تو موصف کا اتناناگوار گزرا کہ انہوں نے تحصیلدار کو ہی تشدد کا نشانہ بنا ڈالا اور زدکوب کیا اس طرح کے واقعات ناقابل قبول ہے انہوں نے کہ علاقے کی تحصیل نے ڈرانے،حملہ آور ہونے اور دھکمیاں دینے کے حوالے سے درخواست بھی دی ہے جس میں انصاف کی اپیل کی کی گئی ہے لہذا ئی جی پولیس تحصیل کے تحفظ دینے کے حوالے سے بھی فوری ایکشن لے تاکہ اس طرح کی کارسرکار میں مداخلت کا قلع قمع کیا جاسکے انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کی قیادت کو اس ضمن میں ناصرف فوری ایکشن لینا چاہیے بلکہ گورنر بلوچستان سے پارٹی فورم پر اس بابت تحقیقات کرنی چاہیے سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے وزیراعظم اور چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ بلوچستان کے غریب اور نادار لوگوں کو اس طرح کی ظلم وزیادتی سے فوری طور پر بچایا جائے



