ڈیرہ اللہ یار میں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ سے متجاوز

ڈیرہ اللہ یار(یو این اے )ڈیرہ اللہ یار میں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ سے متجاوز، گیسٹرو، ڈائریا اور ملیریا بے قابو، 1500سو افراد سرکاری اور نجی اسپتالوں میں داخل ہو گئے، بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے عوام کو دہرے عذاب میں مبتلا کر دیا، رپورٹ کے مطابق نصیرآباد ڈویژن اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، جعفرآباد کے ہیڈ کوارٹر شہر ڈیرہ اللہ یار سمیت چھوٹے بڑے شہر اور دیہات میں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ سے متجاوز ہوگیا، شدید گرمی میں گیسٹرو، ڈائریا اور ملیریا کے امراض بے قابو ہوگئے 1500سو افراد سے زائد سرکاری اور نجی اسپتالوں میں داخل ہو گئے، کمسن، خواتین اور بزرگ شہری بیمار ہو کر اسپتال پہنچ گئے، سرکاری اور نجی اسپتالوں میں مریضوں کا رش بڑھ جانے سے بیڈ کم پڑ گئے، ڈیرہ اللہ یار میں درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ بجلی بھی غائب ہوگئی، شہری اور دیہی علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے عوام کو دہرے عذاب میں مبتلا کر دیا، شہری علاقوں میں اعلانیہ طور پر 12 گھنٹے اور غیر اعلانیہ طور پر 16 سے 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ جاری ہے جبکہ دیہی علاقوں میں اعلانیہ طور پر 16 سے 18 اور غیر اعلانیہ طور پر 18 سے 20 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، شدید گرمی میں عام اور کاروباری زندگی بری طرح متاثر ہوچکی، دن بھر سورج آگ اگلتا رہتا ہے، مقامی ڈاکٹر عبدالرزاق بھنگر کے مطابق گرمی بڑھنے کے ساتھ گیسٹرو، ڈائریا اور ملیریا کے کیسز میں بھی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، علاج معالجہ کے لیے آنے والے ہر مریض میں ملیریا کے علامات پائے جائے رہے ہیں، گیسٹرو اور ڈائریا کے مریض بھی بہت آ رہے ہیں، انکا کہنا تھا کہ ملیریا، گیسٹرو اور ڈائریا کے بڑھنے کی وجوہات میں اہم وجہ ناقص مشروبات کا استعمال اور صاف پانی کی عدم دستیابی ہے، سیلاب کے بعد تاحال ملیریا آوٹ آف کنٹرول ہے، ڈاکٹر کے مطابق شہری شدید گرمی میں غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلیں، گھر سے نکلتے وقت سر کو ڈھانپ کر رکھنا چاہیے، پھل اور سبزیوں کو صاف پانی سے دھو کر استعمال کیا جائے اور احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے



