بلوچستانتازہ ترین

اگر کوئی بات چیت کرنا چاہتا ہے ہم تیار ہے میر ضیاء اللہ

بلوچستان کے حقوق کی جنگ قانونی طریقے سے لڑی جاسکتی ہے، مسلح تحریکوں سے نقصان بلوچ عوام کا ہو رہا ہے،گلزار امام شمبے

مسائل کا بہتر حل مذاکرات،کوئی بات چیت کرناچاہے تو ہم دوقدم آگے آئیںگے،وزیر داخلہ
اگر کوئی ریاست اور اداروں سے کھیلے گا تو کوئی رحم کا کوئی آپشن نہیں ہے،میر ضیاء اللہ لانگوکی پریس کانفرنس
پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق جو حق مانگے گا ہم ان کے ساتھ ہیں،سینیٹرآغا عمر احمد زئی کے ہمراہ بات چیت
کوئٹہ(یو این اے )وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے کہاہے کہ تمام مسائل کا بہتر حل بات چیت ہے ، اگر کوئی ریاست اور اداروں سے کھیلے گا تو کوئی رحم کا کوئی آپشن نہیں ہے، اگر کوئی بات چیت کرنا چاہتا ہے تو ہم دو قدم آگے آجائیں گے، پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق جو وگ حق مانگے گا ہم ان کے ساتھ ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے سول سیکرٹریٹ جمالی آڈیٹوریم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیرداخلہ بلوچستان ضیا لانگو کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے کہتا ہوں بات چیت بہتر حل ہے، جن کو حقوق نہیں ملتے ہم ان کے ساتھ ہیں، پاکستان کے قانون کے تحت لوگوں کوروزگارملناچاہئے۔وزیرداخلہ نے کہا کہ اگر کوئی ریاست اور اداروں سے کھیلے گا تو کوئی رحم کا کوئی آپشن نہیں ہے، اگر کوئی بات چیت کرنا چاہتا ہے تو ہم دو قدم آگے آجائیں گے، مسائل بات چیت سے ہی حل کئے جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں کئی آپریشن کا شوق نہیں لوگوں کے مرنے پر دکھ ہوتا ہے،ریاست بات چیت پر یقین رکھتی ہیں بحیثیت صوبائی وزیر کہتا ہوں کہ بات آخری آپشن ہے ریاست کے بنیادوں سے کھیلنے اور لوگوں کو مارنے کا عمل پر کوئی برداشت نہیں کرینگے، پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق جو وگ حق مانگے گا ہم ان کے ساتھ ہیںاپیل کرتا ہوں جو لوگ صیح راستے پر آئے جائے ان کو اپنی غلطی ٹھیک کرنے کا موقع ملنا چاہیے ۔ اس موقع پرسینیٹر پرنس آغا عمر احمد زئی نے کہاکہ پاکستان کے لیے سب سے زیادہ قربانی بلوچوں نے دی ہیں جو لوگ واپس آنا چاہتے ہے ان کے لیے راستہ کھولا رکھنا چاہیے میں سمجھتا ہوں کہ مفاہمت کا راستہ بند نہیں ہوئی چاہئے،دشمن بھٹکے ہوئے لوگوں کا استعمال کررہا ہے۔

کالعدم بی این اے کے بانی اور خطرناک دہشت گرد گلزار امام نے قوم سے معافی مانگ لی
ریاست ماں ہے امید ہے مجھے اصلاح کا موقع دے گی، نوجوان ہتھیار پھینک کر مذاکرات کی میز پر آئیں،گلزار امام شمبے
بلوچ طالبعلم لڑائی میں وقت ضائع کرنے کے بجائے ترقی کیلئے کردار ادا کریں، ریاستی اداروں کو بلوچستان کے مسائل کا ادراک ہے مسائل کا بہتر حل مذاکرات
کوئٹہ(یو این اے )کالعدم تنظیم بلوچستان نیشنلسٹ آرمی (بی این اے )کے بانی گلزار امام شمبے نے قوم سے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح تحریکوں سے نقصان بلوچ عوام کا ہو رہا ہے، نوجوان ہتھیار پھینک کر مذاکرات کی میز پر آئیں۔گزشتہ روز کوئٹہ کے سول سیکرٹریٹ جمالی آڈیٹوریم میں گلزار امام شمبے کو میڈیا کے سامنے پیش کیاگیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو اور سینیتر آغا عمر احمد زئی ودیگر بھی موجود تھے ۔گلزار امام عرف شمبے نے کہاکہ بے گناہ افراد کے قتل پر قوم اور نوجوانوں سے معافی کا طلب گار ہوں۔گلزار امام شمبے کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے حالات کی خرابی میں بے روزگاری اور وسائل کی منصفافہ تقسیم کا نہ ہونا ہے، لیکن مسلح تحریکوں کا سب سے زیادہ نقصان بلوچوں کا اپنا ہو رہا ہے۔گلزار امام شمبے نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل گرفتار ہوا تو مزاحمتی تحریک کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور ماضی کا تجزیہ کیا، اس دوران ریاست اور بلوچستان کے جیو پولیٹیکل اہمیت کو سمجھے بغیر جنگ لڑنے کی غلطی کا ادراک ہوا۔گلزار امام شمبے کا کہنا تھا کہ دوران حراست سمجھا کہ مسلح جدوجہد مسائل کا حل نہیں، مسائل کا بہتر حل مذاکرات بلوچستان کے حقوق کی جنگ قانونی طریقے سے لڑی جاسکتی ہے، مسلح تحریکوں سے نقصان بلوچ عوام کا ہو رہا ہے، بلوچستان مسائل کا شکار ہے، صوبے اور ملک میں سرمایہ کاری کا عمل رک چکا ہے۔گلزار امام شمبے نے بتایا کہ کچھ لوگ مسلح جہدوجہد کو پریشر گروپ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں، ہمسایہ ممالک بلوچستان میں سورش کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔گلزار امام شمبے کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ممکن ہوئے، نوجوان ہتھیار پھینک کر مذاکرات کی میز پر آئیں، بلوچستان کے حقوق کی جنگ سیاسی اور آئینی طریقے سے ممکن ہے، بلوچستان پیچھے رہ گیا ہے، سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے، بلوچ طالبعلم لڑائی میں وقت ضائع کرنے کے بجائے ترقی کیلئے کردار ادا کریں، ریاستی اداروں کو بلوچستان کے مسائل کا ادراک ہے۔گلزار امام نے قوم سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ 15 سالہ تحریک میں جن بے گناہ لوگوں کا خون بہا ان کے پیاروں سے معافی مانگتا ہوں، ریاست ماں ہے مجھے اصلاح کا موقع دے گی، اگر موقع ملا تو نوجوانوں سے رابطے کر کے قومی دھار ے میں لائوں گا۔واضح رہے کہ گلزار امام عرف شمبے 1978 کو پنجگور میں پروم کے مقام پر پیدا ہوا، 2009 تک ٹھیکیدار اور نیوز رپورٹر کی ملازمتیں کیں، گلزار امام 2018 تک کالعدم بلوچ ری پبلیکن آرمی میں براہمداغ بگٹی کا نائب رہا۔گلزار امام عرف شمبے نے نومبر 2018 میں بلوچ راجی آجوئی سنگر نامی تنظیم کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا، اور یہ کالعدم بلوچستان نیشنل آرمی کا بانی ہے، یہ تنظیم بی آراے، یو بی اے نامی تنظیموں کو ملا کر بنائی گئی۔گلزارامام دہشت گردی کی درجنوں وارداتوں سمیت پنجگور اور نوشکی حملوں میں ملوث تھا، اس کے بھارت اور افغانستان سے رابطے تھے، اس نے دسمبر 2017 میں گل نوید کے نام سے افغان پاسپورٹ پر بھارت کا دورہ بھی کیا تھا، اور 11 جنوری 2022 کو بلوچ نیشنلسٹ آرمی کا سربراہ منتخب ہوا۔ گلزار امام شمبے کو 7 اپریل کو گرفتار کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button