
پاکستان ان ججوں،ورکرز کامقروض ہیں جنہوں نے مارشل لائوں کے خلاف فیصلے اور اپنی جانوں کے نذرانے دئیے
ہمارے اکابرین نے بغیر کسی جرم کے جیلیں کاٹیں۔ سزائے موت کے پھندے تک پہنچایا گیا مگر انصاف نہیں ملا
کوئٹہ/اسلام آباد(یو این اے )پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان چکزئی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراخترجان مینگل نے کہاہے کہ پاکستان میں توبہ کا وقت ہے ،جج،جرنیل ،سیاستدان ،صحافی ،پی پی ،ن لیگ،جمعیت سمیت سب کو توبہ کرکے پاکستان کی ازسرنوتشکیل کیلئے جدوجہد کرنی چاہے،سپریم کورٹ کابلڈنگ بہت عمدہ اورکشادہ ہے کاش یہاں انصاف بھی اسی طرح ملتاتوکیا بات تھی،پاکستان ان ججوں،ورکرز کامقروض ہیں جنہوں نے مارشل لائوں کے خلاف فیصلے اور اپنی جانوں کے نذرانے دئیے ، ہمارے اکابرین نے بغیر کسی جرم کے جیلیں کاٹیں۔ سزائے موت کے پھندے تک پہنچایا گیا مگر انصاف نہیں ملاجس ملک میں انصاف مانگنا جرم ہو اور حق کی آواز اٹھانا جرم ہو اس ملک کی عدالتوں سے آپ کیا امید رکھ سکتے ہیں۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے سپریم کورٹ کے ساتھ شاہراہ دستور پر پی ڈی ایم کے زیراہتمام دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔محمود خان اچکزئی نے کہاکہ آج شاہراہ دستور پر ہم کسی کو گالی دینے یا بدوناروا دھمکی کیلئے اکھٹے نہیں ہوئے بلکہ پاکستان ہمارے خراب اعمال ،اللہ پاک کہتاہے کہ جب کوئی بات کرو توسچ کرو قرآن کریم کہتاہے کہ ہر انسان اپنے عمل کو رہن ہے اس ملک کے ساتھ75سال میں ہم سب جرنیلوں،ججز،پارلیمانی ممبران ،سیاستدانوں ودیگر نے جو کیا اس کے نتیجے میں آج یہ ملک ڈوب رہاہے .
،پاکستان ہمارے بداعمالیوں،بدکاریوں اور غلط رویوں کی وجہ سے ڈوب رہاہے پاکستان میں توبہ کرنے کا وقت ہے جرنیل ،جج ،سیاستدان ،صحافی ،پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ(ن) سمیت ساری جماعتیں توبہ کرے اور نئے سرے سے پی ڈی ایم جس مقصد کیلئے بنائی گئی تھی اس کیلئے جدوجہد کی جائے ،پی ڈی ایم مولانافضل الرحمن کی سربراہی میں پاکستان کی تشکیل نو کیلئے بنائی تھی تاکہ نئے پاکستان کی تخلیق کرے ،مولانافضل الرحمن نے بڑا کمال کیااور آج کااحتجاج شاہراہ دستور پررکھا،پولیس نے کہاکہ ریڈزون میں جلسے نہیں ہونے چاہئیں ،پی ڈی ایم کے کارکن اپنے ملک کی اہمیت سمجھتے ہیں ایک گملہ بھی نہیں ٹوٹے گاکسی پولیس کے ساتھ بدتمیزی نہیں ہوگی کسی جج کاراستہ بند نہیں کیاجائے گا،یہاں اس ملک میں آئین کی بادشاہی ہوگی یہ ملک کا شاہراہ دستور ہے دنیا دیکھ رہی ہے آج یہاں بیٹھے کارکن نہ تو کسی کے دئیے پیسے کی وجہ سے آئے ہیں نہ نوکری کے وعدے کی وجہ سے آئے ہیں بلکہ یہ آئین کادفاع جانتاہے ،پاکستان پیپلزپارٹی ،جمعیت علماء اسلام ،عوامی نیشنل پارٹی ،مسلم لیگ(ن) سے اپیل ہے کہ نعروں سے کچھ نہیں ہوتا ،ہم پارلیمنٹ اور عوام بعض لوگوں کے مقروض ہیں وہ ججز جنہوں نے پہلے مارشل لاء کی مخالفت کرکے اپنے بچوں کے پیٹ پر لات ماری ہم نے انہیں بھلا دیا یہ گناہ ہے جن ججوں نے ایوب خان کے مارشل لاء کے خلاف فیصلہ دیا نوکری چھوڑ دی وہ گمنامی میں وفات پا گئے ،ان ججوں کی عوام ،مسلم لیگ(ن) پیپلزپارٹی ،جمعیت علماء اسلام مقروض ہیں ،جب انتخابات ہونگے تو عوام کی طاقت سے یہاں لوگ پارلیمنٹ آئیںگے تو ان ججوں کو جنہوں نے مارشل لاء کی مخالفت کی تھی وہ جمہوری ہیروز ہیں ان کے بچوں کو تمام تنخواہیں دینا ہونگی ۔ہم ان پاکستانیوں کے مقروض ہیں جنہوں نے مارشل لائوں میں گولیاں کھائیں اس میں پشتون،بلوچ،سندھی ،پنجابی سرائیکی تھے ان شہداء کو بھلانانہیں چاہیے ،جمہور کی حکمرانی کیلئے سینکڑوں لوگ گولیوں کانشانہ بنے ،پارلیمان اور ان سیاسی جماعتوں کو ان کیلئے آواز بلند کرناچاہیے ،جن جرنیلوں نے آئین کو پھاڑا اور مخالفت کی اور مارشل لاء لگایا میں بیکار نہیں ظالم نہیں لیکن ان جرنیلوں کے خلاف پارلیمنٹ کوآگے آناچاہیے ،بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی مینگل)کے سربراہ اختر مینگل نے کہا کہ ہم اس جگہ پر کھڑے ہیں 2سال پہلے بھی ہم یہاں شاہراہ دستور پر موجود تھے فرق یہ ہے کہ پہلے ہمارا منہ الیکشن کمیشن کی طرف تھا اب ہمارامنہ سفید بلڈنگ کی طرف ہے ماشاء اللہ بڑی خوبصورت بلڈنگ ہے عمدہ وکشادہ بلڈنگ ہے ،عمارت میں انصاف اسی طرح مہیاکیاتا تو کیا بات ہے ،یہ شاہراہ دستور بھی ہے اسلام آباد میں شاہراہ دستور تو موجود ہے لیکن شاہراہ انصاف کی کمی ہے کیوں کہ یہاں پر انصاف صرف منظور نظر لوگوں اور ایلیٹ کلاس کو ہی ملتا ہے۔اختر مینگل کا کہنا تھا کہ وہ ممالک صفحہ ہستی سے مٹ گئے جن میں انصاف مہیا نہیں کیا گیا۔ یہاں پر تو شہزادوں کو ایک گھنٹے میں بازیاب کیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس حکم دیتے ہیں کہ ایک گھنٹے کے اندر اندر اس کو حاضر کیا جائے اور پھر شان و شوکت کے ساتھ لایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اکابرین نے بغیر کسی جرم کے جیلیں کاٹیں۔ سزائے موت کے پھندے تک پہنچایا گیا مگر انصاف نہیں ملا۔اختر مینگل کا کہنا تھا کہ جس ملک میں انصاف مانگنا جرم ہو اور حق کی آواز اٹھانا جرم ہو اس ملک کی عدالتوں سے آپ کیا امید رکھ سکتے ہیں۔



