
بلوچستان ہائی کورٹ نے ماہل بلوچ کی 5لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عیوض ضمانت منظور کرلی
ماہل بلوچ نامی خاتون کو خودکش جیکٹ سمیت گرفتارکرلیا گیا ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایا ۔ترجمان وزیراعلی بلوچستان بابر یوسفزئی 22مارچ2023
کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس عبداللہ بلوچ اور جسٹس جناب جسٹس اقبال احمدکاسی پرمشتمل ڈویژنل بینچ نے ماہل بلوچ کی 5لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عیوض ضمانت منظور کرلی ۔ڈویژنل بینچ نے گزشتہ روز عمران بلوچ ایڈووکیٹ کی جانب سے ماہل بلوچ کی ضمانت بعد از گرفتاری کے خلاف دائرآئینی درخواست سے متعلق سماعت کی .
واضح رہے کہ 17فروری کو گھر سے ماہل بلوچ کو رات کو اٹھایاگیا تھا دیگر خواتین کو چھوڑ دیاگیا جبکہ ماہل بلوچ کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی جس کا کیس سیشن کورٹ میں کیس چلا جس کے خلاف ہم نے بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا گزشتہ روز بلوچستان ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے درخواست ضمانت بعداز گرفتاری پر فیصلہ سناتے ہوئے ماہل بلوچ کی 5لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں (5لاکھ روپے کے زمین کافرد)کے عیوض ضمانت منظور کرلی ۔ترجمان حکومت بلوچستان بابر یوسفزئی نے دعوی کیا ہے کہ محکمہ انسداد دہشت گردی نے کالعدم تنظیم کی ماہل بلوچ کو خودکش جیکٹ سمیت گرفتار کرکے بلوچستان میں دہشت گردی کی بہت بڑی سازش ناکام بنادی.
۔واضع رہیں کہ 22مارچ2023 کو کوئٹہ میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر یوسفزئی نے کہا کہ 17 فروری کو محکمہ انسداد دہشت گردی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ماہل بلوچ نامی خاتون کو خودکش جیکٹ سمیت گرفتار کیاانہوں نے کہا کہ ان خاتون کے شوہر کا نام ببرک بلوچ تھا، وہ بھی ایک کالعدم تنظیم بی ایل ایف کے کمانڈر تھے اور ایک دہشت گرد کارروائی میں اپنے بھائی بلوچ خان کے ساتھ مارے گئے تھے ان کا کہنا تھا کہ ماہل بلوچ کی ذہن سازی کرنے اور ان کو ورغلانے والے یوسف بلوچ ہیں، یہ خود کو آزادی کے نام نہاد دعویدار بلوچ کہتے ہیں لیکن درحقیقت یہ دہشت گرد لوگ ہیں، یوسف بلوچ ماہل بلوچ کے نندوئی اور ڈاکٹر اللہ نذر کے بھی قریبی عزیز ہیں، ان کی بیگم بھی بی ایل ایف کے لیے کام کرتی ہیں۔ماہل بلوچ کوضمانت پر رہا
رجمان حکومت بلوچستان کہا کہ ہمارے پاس تمام ثبوت ہیں کہ ماہل بلوچ کو کس طرح ایزی پیسہ اکاونٹ، بینک اکاونٹ اور حوالے کے ذریعے فنڈنگ کی جارہی تھی، ماہل بلوچ نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ اپنے شوہر کے انتقال کے بعد وہ اپنے ساس سسر کے ساتھ کراچی چلی گئی تھیں جہاں کالعدم تنظیم کے لوگوں نے ان سے رابطہ کیاانہوں نے بتایا کہ ماہم بلوچ نے کہا کہ کالعدم تنظیم نے ان کو ورغلانے کی کوشش کی اور ان کی بچیوں کے حوالے سے انہیں دھمکایا کہ ان کے ساتھ بھی وہی ہوگا جو ان کے شوہر کے ساتھ ہوا.ماہل بلوچ کوضمانت پر رہا
لہذا ماہل بلوچ بھی اس تنظیم کا حصہ بن گئیںانہوں نے کہا کہ ماہل بلوچ کو جب گرفتار کیا گیا تو ان کے پاس ایک خودکش جیکٹ بھی تھی اور انہوں نے بتایا کہ شربت گل نامی ایک آدمی نے انہیں یہ جیکٹ پہنچائی، پلان کے مطابق ماہل بلوچ یہ جیکٹ کسی کو دینے جارہی تھیں اور تب ہمارے اداروں نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر انہیں رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیاان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیقات



