
کوئٹہ(یو این اے )پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سینئر قانون دان کوئٹہ ڈسٹرکٹ بار کے بانی وسابق صدر ملک سمندر خان کاسی ایڈووکیٹ نے اپنے ایک بیان میں ایڈیشنل سیشن جج کچلاک ودیگر کو کوئٹہ منتقل کرنا کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر سے دوری کے باعث سائلین کیلئے وکلا کی فیسوں ٹرانسپورٹ ودیگر اخراجات برداشت کرنا نا قابل برداشت ہے اور رہی سہی کسر جونیئر وکلا کی جانب سے مقدمات کی سماعت میں سست روی نے پوری کردی ہے .
انہوں نے کہا ہے کہ بد قسمتی سے عوام کو سستے اور فوری انصاف کے اصول میں مشکلات درپیش ہیں کچلاک شہر کے کوئٹہ سے دوری کے باعث سائلین کو خطیر رقوم وکلا کی فیسوں ،ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات کی مد میں خرچ کرنا پڑتا ہے رہی سہی کسر جونیئر وکلا کی جانب سے مقدمات کی سماعت کو طول دینے کیلئے تاخیر حربے استعمال کرنے سے پوری ہوگئی ہے اس لئے عوامی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارا مطالبہ ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج سریاب ودیگر عدالتوں کو کوئٹہ منتقل کیا جائے تاکہ سائلین کو وکلا کے ٹرانسپورٹ ،کھانے ودیگر مدعات میں خطیر رقم خرچ نہ کرنا پڑے .
انہوں نے کہا کہ بار اور بینچ دونوں کو چاہیے کہ عوام کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنا ئیں تاکہ انصاف کا بول بالا ہو انہوں نے الزام عائد کیا کہ بار ایسو سی ایشن کا بھی اس بابت کردار سوالیہ نشان ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ بار ایسو سی ایشن اس جانب توجہ دیں اس کے علاوہ بلوچستان بار کونسل اور بلوچستان ہائی کورٹ ،ڈسٹرکٹ بار ودیگر کے آڈٹ بھی کیا جائے تاکہ ایسو سی ایشن کو ذاتی مفادات کے بجائے گروہی مفادات کیلئے بروئے کار لا یا جاسکے۔



