
about:blank
کوئٹہ(یو این اے )ملک بھر کے بار کونسلز وسپریم کورٹ کے سابق صدور نے ملک میں سیاسی وآئینی بحران پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ آج جمہوری نظام خطرے میں ہے عدلیہ ایک ٹول کے طور پر غیر جمہوری طاقتوں کیلئے کام کررہی ہیں آئین کی بالادستی تب قائم ہوگی جب تمام ادارے اپنے حدود میں رہیں اگر آئینی حدود سے تجاوز ہوں تو آئینی بالادستی نہیں رہتی، سپریم کورٹ ملک کا آخری عدالت جنہیں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ پاکستان بھر کے وکلا کو آئین کیلئے کھڑا ہونا چاہیے کسی خاص طبقے کیلئے نہیں سپریم کورٹ بحیثیت ادارہ کمزور ہو گیا تو اس کو اٹھانا مشکل ہوگا اس لئے ضروری ہے کہ وکلا قیادت مضبوط اور مستحکم کردار ادا کرتے ہوئے قومی مفاد میں آگے بڑھیں بلوچستان کو ہمیشہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ ملک میں آئینی بحران، مارشل لا ہو یا پارلیمنٹ کی بالادستی تو بلوچستان کے وکلا نے پہل کی ہے،سپریم کورٹ میں ججز کی ایلویشن سنیئریٹی کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ ریٹائرڈ ججز، جرنیل اور بیوروکریسی کی دوبارہ تقرری پر پابندی عائد کردی جائیں اگر پابندی نہ لگی تو خزانے پر بوجھ کے ساتھ جونیئر ملازمین میں تشویش بڑھ جاتی ہے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہارون رشید، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی حسن رضا پاشا، بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امان اللہ کاکڑ، پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین بشارت اللہ، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی طاہر چوہدری، خیبر پختونخوا بار کونسل کے وائس چانسلر زر با چا،سندھ بار کونسل کے وائس چیئرمین اظہر عباسی، اسلام آباد بار کونسل کے چیئرمین بین الصوبائی عادل عزیز، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی بلوچستان بار کونسل قاسم گاجیزئی، راحب بلیدی ایڈووکیٹ نے بلوچستان بار کونسل کے زیر اہتمام ملک گیر وکلا نمائندگان کنونشن بعنوان آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی سپریمیسی، عوام کی حقیقی حکمرانی کیلئے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وکلا رہنمائوں چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی خیبر پختونخوا سید مبشر، طاہر شبیر چوہدری، سید امجد شاہ، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدور یاسین آزاد ، امان اللہ کنرانی، احسن بون، سینیٹرکامران مرتضی،قلب حسن، اور سلیم لاشاری، شاہ رسول، عرفان قادر، حیدر امام رضوی ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ راحب بلیدی ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان کو ہمیشہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ ملک میں آئینی بحران، مارشل لا ہو یا پارلیمنٹ کی بالادستی تو بلوچستان کے وکلا نے پہل کی ہے۔ بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر عبدالمجید کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کے وکلا نے آئین و قانون کی بالادستی کیلئے بہت قربانیاں دیں جیلیں کاٹیں صعوبتیں برداشت کیں۔ سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیاسی و آئینی بحران چل رہا ہے جوڈیشلائزیشن چل رہی ہے چیف جسٹس آف پاکستان اور ہم خیال ججز کا جو کردار ہے وہ افسوس ناک ہے۔ خیبر پختونخوا بار کونسل کے سابق ممبر احمد فاروق خٹک نے کہا کہ وکلا کی جو تحریک بلوچستان سے شروع ہوتی ہے وہ کامیاب ہو جاتی ہے۔ آئینی قانونی امور سپریم کورٹ کے تین تھانے داروں کے پاس رہ گئے ہیں یہ تین نہ تو خود کو جج، قاضی، اور نہ ہی منصف مانتے ہیں بلکہ خود کو تھانے دار مانتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں جو 6 جونیئر بیٹھے ہیں وہ انگوٹھا چھاپ ہے، موجودہ حکومت کا مذمت کرتا ہوں انہوں نے دبائو میں آکر جونیئر ججز کو ووٹ دیا وہ جونیئر کی ایولیشن کی وجہ سے آئینی بحران سب کے سامنے ہیں۔ جب ضرورت ہے تو چیف جسٹس کہتا ہے کہ آئین نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور ایکچول میں وہ ڈکٹیٹر کو تین سال ایکسٹینشن دے دیتا ہے۔ سپریم کورٹ میں ججز کی ایلویشن سنیئریٹی کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ ریٹائرڈ ججز، جرنیل اور بیوروکریسی کی دوبارہ تقرری پر پابندی عائد کردی جائیں اگر پابندی نہ لگی تو خزانے پر بوجھ کے ساتھ جونیئر ملازمین میں تشویش بڑھ جاتی ہے۔ ریٹائرڈ ججز کی کنسلٹنسی پر پابندی عائد کی جائیں، اور باقاعدہ قانون سازی کی جائیں۔ ثاقب نثار اور اس کے حواریوں نے ہمیشہ نے ساتھی ججز کی بے توقیری کی ہے اور کرتے آرہے ہیں۔ وکلا برادری کو اس بے توقیری کے خلاف آواز بلند کرے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر یوسف مغل، اسلام آباد بار کونسل کے بین الصوبائی عادل عزیز نے کہا کہ پاکستان کی عوام وکلا کو سپریم کورٹ پر اعتماد بحال ہوں اور سپریم کورٹ حق و سچ کا ساتھ دیکر انصاف پر مبنی فیصلے کریں وکلا قیادت جو بھی قدم اٹھائے گی ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ سندھ بار کونسل کے وائس چیئرمین اظہر عباسی نے کہا کہ ہم کسی کے خلاف نہیں بلکہ سپریم کورٹ پر کو اعتراضات ہیں ان کے خاتمے کیلئے آواز بلند کررہے ہیں تاکہ سپریم کورٹ کا وقار بحال ہوں۔ سوموٹو سے متعلق اختیارات کا تعین ہوں من پسند افراد کو بینچ میں شامل کرنے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بلوچستان بار کونسل کے سابق چیئرمین سلیم لاشاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ آئین کی بالادستی تب قائم ہوگی جب تمام ادارے اپنے حدود میں رہیں اگر آئینی حدود سے تجاوز ہوں تو آئینی بالادستی نہیں رہتی، سپریم کورٹ ملک کا آخری عدالت جنہیں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ جونیئر ججز کی سپریم کورٹ میں ایولیشن سے ججز کلب تشکیل پاتا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کو پاور شیئرنگ ہضم نہیں ہو رہی جب کوئی اعتماد نہیں تو خود کو کیس سے الگ کرنا چاہیے۔ پاکستان بھر کے وکلا کو آئین کیلئے کھڑا ہونا چاہیے کسی خاص طبقے کیلئے نہیں سپریم کورٹ بحیثیت ادارہ کمزور ہو گیا تو اس کو اٹھانا مشکل ہوگا اس لئے ضروری ہے کہ وکلا قیادت مضبوط اور مستحکم کردار ادا کرتے ہوئے قومی مفاد میں آگے بڑھیں۔ خیبر پختونخوا بار کونسل کے وائس چانسلر زر باچا،پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین بشارت اللہ نے کہا کہ پاکستان کی عوام پارلیمان کے قانون سازی کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں لیکن پارلیمان کے قانون سازی کے عمل کو عدالتی فیصلے سے روکنے کی کوشش کی گئی آئین پاکستان اپنے ہی معتبر ایوان سپریم کورٹ کے کٹہرے میں کھڑا ہے سپریم کورٹ بوقت ضرورت آمر کے ساتھ کھڑی رہتی ہے جس سے عدالتی تاریخ داغدار ہوتی چلی گئی۔ عدالتی تاریخ اور کردار سے جو تصویر پیش کی گئی ہے اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ عدالت عظمی اپنے آئینی حدود سے تجاوز نہ کرے نظام عدل کو یرغمال بنانے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے، کنونشن کو ضرب للکار کا نام دیتا ہوں۔ پاکستان بار کونسل کے سابق چیئرمین سید امجد شاہ نے کہا کہ جب بھی انسانی حقوق کی بات ہوئی نظام کی بقا کی بات ہوئی بلوچستان نے اپنا حصہ ڈالا آئین کی موجودگی میں بلوچستان میں بہت مظالم ہوئے، عدلیہ کی آزادی کا مسئلہ آج نہیں بلکہ عدلیہ میں بیٹھے لوگوں کی آمرانہ ذہنیت کا ہے جو اپنے اختیار کو تقسیم نہیں کرنا چاہتے۔ جب بھی قومیں شعور میں ترقی کرتی ہے تو وہ اختیارات کی تقسیم کرتے ہیں بدقسمتی سے یہاں اختیار یا تو اسٹیبلشمنٹ یا پھر ججز کے پاس ہوتی ہے اور آئین بنانے والی پارلیمنٹ کو مفلوج کرکے قانون سازی کا اختیار لے لیا ہے جس قانون پر حکم امتناعی جاری کیا گیا ہے جس شخص کی اختیارات کم ہو رہے ہیں وہ خود بیٹھ کر وہ کیس سن رہے ہیں انصاف کی ذمہ داری عدالتوں کا کام ہے چیف جسٹس پر ذمہ داری ہے کہ وہ عدالت کی توقیر کا خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ کنونشن 13 مئی کو پشاور میں ہوگا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینیٹر کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے کہا کہ کتنی بدقسمتی ہے کہ 73 کے آئین کو 50 سال مکمل ہو گئے اور پاکستان کو بنے 75 سال ہوئے ہیں جس کے دستور کے 50 سال ہوئے کیا ہم نے کبھی اس دستور پر عمل کیا ہے سوکالڈ متفقہ دستاویزات ہمارے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوا ہے۔ آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی سپریمیسی اور عوام کی حقیقی حکمرانی بہت دور بلوچستان میں تو انسانی حقوق ہی میسر نہیں مائیں آج بھی بیٹھی لاپتہ افراد کی انتظار کررہی ہے، ملک کے 50 سالہ دستور نے آج تک نہ ہمیں کچھ نہیں دیا اور پارلیمان جن کے نام بھی بہنوں والے ہیں نے ہمیشہ بھائی کا ساتھ دیا ہے آج بھی بہن اکیلی ہے یا بھائی کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے یہ سوال تشنہ لب ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ آزاد نہیں بلکہ لولی لنگڑی پارلیمان ہے جب یہ لولی لنگڑی پارلیمان کوئی قانون دے دیتی ہے تو پھر سپریم کورٹ اس پر اسٹے دیتی ہے کیونکہ اس قانون سے ایک شخص کو ذک پہنچتا ہے۔ ناراضگی کا اظہار ایسے کرتے ہیں کہ قانون سے پہلے اسٹے جاری کیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کی ججز میں تقسیم کا مثال دنیا کے کسی حصے میں نہیں ملتا لیکن پاکستان میں ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حلف لینے والے نے ہمیشہ اس ملک کو خراب کیا ہے سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کو پہنچایا گیا۔ سید قلب حسن نے کہا کہ پہلا کنونشن ہے جو اپنی جوڈیشری کیلئے ہے سوموٹو لیا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور قانون کی عمل داری ہے سپریم کورٹ میں 52 ہزار کیسز پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کنونشن کسی کے خلاف نہیں جوڈیشری کو جوڈیشری سے آزاد کرنا ہے۔ احسن بون نے کہا کہ ہم ایک کاز کے ساتھ کھڑے ہیں ہم گزشتہ 23 سال سے اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرتے آرہے ہیں، نظام کی بہتری کیلئے کوئی قانون بنتا ہے تو ویلکم کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے لوگوں کی جھوٹی انائیں نظام سے بڑی ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے کام کرنا ہوگا ہماری جدوجہد کسی ایک حکومت کے آنے یا جانے کیلئے نہیں بلکہ آئین پر عمل کیلئے ہونا چاہیے۔ قومی اسمبلی کے قانون سازی سے چیف جسٹس کے وقار میں اضافے ہوگا عدالت کی غیر جانبداری پر اٹھنے والے سوالات کے خاتمے کیلئے قانون کی عمل داری ضروری ہے۔ آج جمہوری نظام خطرے میں ہے عدلیہ ایک ٹول کے طور پر غیر جمہوری طاقتوں کیلئے کام کررہی ہیں۔ آئین و قانون کی بالادستی کیلئے وکلا قربانیاں دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ وکلا کو تقسیم کرنے والے اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹ ہیں یہاں بات اصولوں کی ہے ہم اصولوں کے ساتھ کھڑے ہیں سازش کے تحت وکلا کو تقسیم کی جا رہی ہے، یوم جشن منانا چاہیے کہ آج ہمارے ادارے مضبوط ہو رہے ہیں آئین شکنی کے خلاف آواز بلند کرنا چاہیے،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ کا انکشاف کیا کہ جس طرح جنرل قمر جاوید باجوہ کو 3 سال ایکسٹینشن دیا گیا اسی طرح چیف جسٹس عمر عطا بندیال بھی اپنی ایکسٹینشن کیلئے کوششیں کررہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ جسٹس قاضی فائز عیسی ریٹائرڈ ہوں یہ معاملہ عمران خان کیلئے نہیں بلکہ بندیال کیلئے ہوں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر یاسین آزاد نے کہا کہ پارلیمنٹ جو سب سے زیادہ مضبوط ہونا چاہیے لیکن وہ سب سے کمزور اور لولی لنگڑی بن گئی ہے ہماری تباہی میں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کا بڑا حصہ اور کسی حد تک سیاستدان بھی ہیں۔ اگر مجیب الرحمن کو اس وقت اقتدار دیا جاتا تو آج پاکستان دو لخت نہیں ہوتا بلکہ پاکستان ترقی کررہا ہوتا افراد آتے جاتے ہیں ضرورت ہے کہ یہ افراد اداروں کی بہتری کیلئے کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ شیڈول جاری کرنا الیکشن کمیشن کے پاس ہے لیکن یہاں ایک ادارہ دوسرے ادارے کا کام کررہی ہیں جو ایک دوسرے کے حدود میں داخلے کے مترادف ہے، پنجاب اور خیبرپختونخواہ اسمبلیاں توڑی گئی تو پھر زور صرف پنجاب پر کیوں ؟ سپریم کورٹ کے جج صاحبان بری طرح تقسیم ہیں عدلیہ، پارلیمان اور اسٹیبلشمنٹ اپنی معاملات بہتر بنائیں۔ پاکستان بار کونسل جو بھی فیصلہ کریگی ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔عدلیہ غیر جمہوری طاقتوں کیلئے کام کررہی ہیںبلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امان اللہ خان کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور مفاد عامہ کیلئے سپریمیسی آف لا و پارلیمان کی بالادستی ضروری ہے۔ آئین و قانون کی خلاف ورزی پر خاموشی کی بجائے آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان بار کونسل کے چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی حسن رضا پاشا نے کہا کہ ہم پر بکنے کے الزامات لگانے والے آج تک کورٹ کا مطالبہ کررہے ہیں ہمارا کوئی سیاسی جماعت نہیں اگر ہے تو وہ بار کے معاملات سے باہر ہیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے حق میں بار نمائندگان اپنے مینڈیٹ کی توہین کررہے ہیں۔ وکلا کنونشن کسی کی ذات کیلئے نہیں ہے سپریم کورٹ پروسیجر ایکٹ بل وکلا کے امیدوں کی ترجمانی کررہی ہے۔ 23 ممبران میں 6 ممبران کہتے ہیں کہ اجلاس نمائندہ نہیں کیا 17 ممبران کا وئی مینڈیٹ نہیں یا وہ عوامی مینڈیٹ لیکر نہیں آئے ہیں۔ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہارون رشید نے کہا کہ بلوچستان سے جانے والے ججز نے ہمیشہ قانون کو آگے رکھا ہے بلوچستان رقبے کے لحاظ سے بڑا اور آبادی کے لحاظ سے چھوٹا صوبہ ہے۔ پاکستان میں جب پہلا مارشل لا لگا تو آئین کو پیچھے چھوڑتے ہوئے عدلیہ نے مارشل لا ڈیفنڈ کیا سلسلہ جاری رہا آج ایک بار پھر یہ سلسلہ جاری ہے، جس نے آئین کے ساتھ کھیلا اس کا نام و نشان نہیں رہا جو آئین کے ساتھ کھڑا ہوا وہ آج بھی زندہ ہے۔



