
خصوصی رپوٹ نصیر کاکڑ یو این اے وفاقی ملازمتوں میں بلوچستان کا کوٹہ بدستور نظرانداز ہونیکا انکشاف ہوا ہے وفاقی ملازمتوں کی تشہیر میں بلوچستان کی اسامیاں کی تعداد 300 ہیں اور بلوچستان کی عوام کی شدید مایوسی کاشکار ہیں ذرائع کے مطابق ا س وقت وفا ق کے زیر انتظام مختلف محکموں میں بلوچستان کے کوٹہ کی اسامیاں خالی ہیں.
وفاقی محکموں میں واپڈا پی آئی اے ایف آئی اے آئل اینڈ گیس نادرا سول ڈیفنس وزارت دفاع وزارت دفاعی پیداوار وزارت اطلاعات و نشریات سول ایویشن اتھارٹی پی پی ایل سوئی گیس ایف بی آر انکم ٹیکس نیب محکمہ اداریے شماریات کیبنٹ ڈویژن سینیٹ قومی اسمبلی وزیراعظم ہاس ایوان صدر پی ڈبلیو ڈی موٹروے پولیس سسٹم پاکستان ریلوے ہاوسنگ اینڈ ورکس پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ محکمہ خزانہ وفاقی وزارت مذہبی امور آئی بی انٹیلی جنس بیورو موٹروے پولیس نیشنل ہائی وے اتھارٹی ٹی اور متعدد محکمے شامل ہیں جن پر گزشتہ 5سال سے کوئی بھرتی عمل میں نہیں لائی جاسکی پسماندہ صوبے کے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں تھامے سرکاری دفاتر کے چکر پہ چکر لگانے پر مجبور ہیں اور ملازمتوں کے حصول کے لیئے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں وہیں.
دوسری جانب حکام کی عدم دلچسپی کی وجہ سے وفاق میں صوبیکی گریڈ ایک سے 14تک کی ہزارو اسامیاں تعیناتی کی منتظر ہیں جبکہ حالیہ مشتہر کی جانے والی اسامیوں میں بلوچستان کا کوٹہ انتہائی محدود کردیا گیا ہے محض ایک آدھ نوکری بلوچستان کے حصے میں ڈالی جاتی ہے وہ بھی کلاس فور کی نوکری ذرائع نے یونیورسل نیوز کو بتایا ہے کہ اس مسئلہ پر مختلف فارمز پر آواز بلند کی گئی جس پر سابق حکومت کی جانب سے یقین دہانی بھی کروائی گئی کہ بلوچستان کے کوٹے پر عمل ہوگا اور امتیازی سلوک غیر منصفانہ رویہ نہیں برتا جائے گا اور میرٹ کے مطابق بھرتیاں عمل میں لائی جائیں گی .
لیکن تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں نے وزیر اعلی سے اپیل کی ہے کہ وہ وفاقی محکموں میں بلوچستان کے کوٹے کی خالی آسامیوں کا نوٹس لیں اوروفاق کی توجہ اس جانب مبذول کروائیں تاکہ بے روزگاروں میں پائی جانے والی مایوسی و بے چینی کا خاتمہ کیا جا سکے



