
گوادر(یو این اے )جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے گوادر شہر کے بنیادی ڈھانچہ کی بہتری کے لیے وفاقی حکومت سے 25 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ فراہم کردینے کا مطالبہ کردیا،گوادر شہر کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہے .
سڑکیں موجود نہیں، بجلی کی تاریں بھانس کی لکڑیوں پر لٹکی ہوئی ہیں ،پینے کا صاف پانی موجود نہیں ،سی پیک کے ثمرات سے پورا ملک اور یہاں تک کے چائینہ مستفید ہورہا ہے لیکن گوادر کے عوام اس سے محروم ہیں ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے گوادر پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ گوادر کے عوام نے حق دو تحریک کے زریعے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھایا لیکن حکومت نے طاقت استعمال کرکے اس تحریک کو دبانے کی کوشش کی اور حق دو تحریک کے سربراہ سمیت کارکنان پر مقدمات قائم کیے گئے .
انہوں نے کہا کہ عوام کے لیے آواز اٹھانا سب کا آئینی اور جمہوری حق ہے اور حق دو تحریک ایک آئینی اور جمہوری سیاسی تحریک ہے اور اسے ریاست اندھی طاقت کے زریعے نہ کچل سکتی ہے اور نہ ہی اسکے راستے میں کوئی رکاوٹ ڈال سکتی ہے انہوں نے کہا کہ ریاست اور حکومتی اداروں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ سیاسی اور جمہوری جدوجہد جو عوامی سطع پر ہو انکی آواز سنیں اور عوام کی جو فریاد اور مطالبہ ہیں اس پر آئینی طریقے سے مثبت اقدامات کے زریعے حل کرائیں .
انہوں نے مزید کہا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان اپنی ضد ختم کرے اور عدلیہ کے تمام ججز پر ایک مشترکہ بنچ تشکیل دیکر متفقہ طور پر فیصلے کیے جائیں ،ملکی حالات ایک بند گلی کی جانب جارہے ہیں جس کا فائدہ تیسری فریق اٹھائے گا، انہوں نے کہا وفاقی حکومت گوادر میونسپل کمیٹی کو 25 ارب روپے کا پیکج فراہم کرے جبکہ گوادر کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے یکم مئی کو ملک بھر میں ریلیاں نکالینگے۔.
جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے گوادر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے کہا کہ عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں جماعت اسلامی کے لیے اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں ہم پاکستان کو انتظامی ،معاشی،سیاسی اور اقتصادی بحرانوں سے نجات دلائینگے انہوں نے کہا کہ اس وقت قومی سطع پر ایک کشماکش کا ماحول چل رہا ہے مزاکرات کے تمام دروازے بند کردیے گئے ہیں پارلیمنٹ اور عدلیہ ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑی ہیں.
اور اسی وجہ سے یہ خطرات پیدا ہوگئے ہیں کہ آئین سے ماروا کوئی اقدامات نہ ہو اور جماعت اسلامی نے ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کے قائدین سے رابطہ کیا اور ہم یہی کہتے ہیں کہ ہر پارٹی کی سیاست اپنی جگہ ہے لیکن ملک میں جمہوری نظام کو ترجیح دیں سیاست کو ترجیح دیں اپنے تصادم کے ساتھ 22 کروڑ عوام کو انکے حقوق سے محروم نہ کریں اور تیسری فریق کو بھی موقع نہ دیں اور ہم عدلیہ سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ حالات کا ٹھنڈے طریقے سے جائزہ لیں اور عدلیہ کے اندر تقسیم کا جو تاثر عوام میں پایا جاتا ہے.
اس کو ختم ہونا چاہیے اور عدلیہ کو آئین کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے لیے ایک مضبوط فورم تشکیل دینا چاہیے اور اِس کا واحد علاج یہ ہے کہ چیف جسٹس پاکستان اپنی ضد ختم کرے اور تمام ججز پر ایک بنچ تشکیل دی جائے جو ان مسائل پر ایک متفقہ مضبوط فیصلہ کرے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ گوادر کے عوام کو سی پیک کے ثمرات کا پہلا حق دیاجائے چونکہ گوادر سی پیک کا مرکز ہے اور سی پیک میں اہم ترین حیثیت رکھتا ہے اور گوادر کی بنیاد پر پورا ملک سی پیک سے مستفید ہورہا ہے .
چائینہ مستفید ہورہا ہے لیکن گوادر کے عوام سی پیک کے ثمرات سے محروم ہیں اور اس سے سی پیک کی کامیابی کے دعویداروں کی نیت کی خرابی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی یکم مئی کو گوادر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ملک بھر میں ریلیاں نکالے گی اور حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کی رہائی کے لیے ملک بھر کے تمام ڈسٹرکٹ میں جماعت اسلامی پرامن احتجاج کریگی انہوں نے کہا کہ حق دو تحریک کے سربراہ مولاناہدایت الرحمان کو ضمانت حاصل کرنے کے لیے حکومت رکاوٹ پیدا کررہی ہے اور ہم یہی سمجھتے ہیں کہ مولانا ہدایت الرحمان کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور گواہان نے خود بتایا ہے .
کہ مولانا پدایت الرحمان کا اس واقعہ سے تعلق نہیں ہے اور ہم یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ گوادرشہر میں سیوریج کا نظام تباہ ہے ،سڑکیں نہیں ہیں گوادر کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہے بجلی نہیں ہے پینے کے پانی کا مسلہ ہے جماعت اسلامی وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ گوادر میونسپلٹی کے لیے 25 ارب روپے کی پیکج کا فوری اعلان کیا جائے اور صوبائی حکومت بھی گوادر میونسپل کمیٹی کے مسائل کو ترجیح بنیادوں پر حل کرانے کے لیے اقدامات اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ گوادر کے عوام نے حق دو تحریک کے زریعے اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے اور عوام کے لیے آواز اٹھانا ہم سب کا جمہوری حق ہے اور ریاست کے کسی بھی ادارے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ لاقانونیت کرے ،لوگوں کو لاپتہ کرے انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے خاندان تڑپ رہے ہیں انکی کوئی شنوائی نہیں ہوتا اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ ایک بنیادی مطالبہ ہے حکومت اسے ہرگز نظر انداز نہ کریانہوں نے کہا کہ حکومت نے حق دو تحریک کے ساتھ جو معاہدیے کیے ہیں ان پر عملدرامد کیا جائے گوادر کے ماہی گیروں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔اس موقع پر جماعت اسلامی کے رہنما راشدنسیم،مولاناعبدالکبیر شاکر اور مولانا بشیراحمد ماندائی بھی انکے ھمراہ تھے۔



