
آئندہ ہفتے 27 یا 28 اپریل کو بارشوں کا طاقتور اور طویل سسٹم ملک پر اثر انداز ہو سکتا ہے، جو 6 یا 7 مئی تک ملک پر اثر انداز رہے گا، جبکہ مئی کے پہلے ہفتے میں کراچی میں بارش کا امکان ہے بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں اس سسٹم کے زیرِ اثر اچھی بارش کا امکان ہے جبکہ سندھ کے 80 سے 90 فیصد علاقوں میں بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے موسمیاتی تجزیہ کار جواد میمن.
کوئٹہ۔ کراچی(یو این اے )موسمیاتی تجزیہ کار جواد میمن کہا ہے کہ آئندہ ہفتے 27 یا 28 اپریل کو بارشوں کا طاقتور اور طویل سسٹم ملک پر اثر انداز ہو سکتا ہے، جو 6 یا 7 مئی تک ملک پر اثر انداز رہے گا، جبکہ مئی کے پہلے ہفتے میں کراچی میں بارش کا امکان ہے بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں اس سسٹم کے زیرِ اثر اچھی بارش کا امکان ہے.
جبکہ سندھ کے 80 سے 90 فیصد علاقوں میں بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے انہوں نے کہا ہے کہ آئندہ کچھ دن ملک کے بیشتر مقامات پر مطلع صاف، موسم خشک اور گرم رہے گا جبکہ پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقے گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے موسمیاتی تجزیہ کار کے مطابق شہرِ قائد کراچی میں درجہ حرارت 40 سے 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے.
ساحلی علاقوں میں مقامی سطح پر بادل بن سکتے ہیں کہ ایران کے قریب بحیرہ عرب میں سرکولیشن بھی بنی ہوئی ہے موسمیاتی تجزیہ کار جواد میمن نے کہ ہے کہ سندھ کے بیشتر مقامات گرم اور خشک موسم کی لپیٹ میں ہیں سندھ، بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں اس سسٹم کے زیرِ اثر اچھی بارش کا امکان ہے جبکہ سندھ کے 80 سے 90 فیصد علاقوں میں بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے.
موسمیاتی تجزیہ کار کے مطابق سندھ میں کہیں تیز کہیں موسلادھار بارش، کہیں ژالہ باری بھی ہوسکتی ہے، تھنڈر اسٹورم بننے پر آندھی اور بجلی گرنے کا بھی خدشہ رہے گاشہرِ قائد کراچی سے کہ کراچی میں 28 اپریل کی رات سے اس سسٹم کے اثر انداز ہونے کا امکان ہے.
مئی کے پہلے ہفتے میں اس سسٹم کی شدت زائد رہ سکتی ہے اور کراچی میں کہیں ہلکی کہیں تیز اور چند مقامات پر موسلا دھار بارش ہو سکتی ہے موسمیاتی تجزیہ کار جواد میمن کے مطابق خیبر پختون خوا کے 90 فیصد علاقوں میں اس سسٹم کے زیرِ اثر بارش کا امکان ہے.
صوبے کے مختلف مقامات پر آندھی، ژالہ باری بھی ہوسکتی ہے، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ ہے موسمیاتی تجزیہ کار کے مطابق پنجاب کے 90 فیصد علاقوں میں کہیں تیز کہیں موسلادھار بارش اور ژالہ باری کا امکان ہے، پنجاب کے شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے اسی طرح بلوچستان کے 80 سے 90 فیصد علاقوں میں بارش، پہاڑی علاقوں میں فلیش فلڈنگ کاخطرہ ہے



