
کوئٹہ (یو این اے) آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی اور معروف ٹرانسپورٹر رہنماں نے قلات کے قریب کوئٹہ سے کراچی جانے والی چار مسافر کوچز کو مبینہ طور پر نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے اپنے ہمراہ لے جانے اور مسافروں کو کھلے میدان میں اتارنے کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قومی شاہراہوں پر مسافروں کے تحفظ کے لیے فوری اور مثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ٹرانسپورٹر رہنماں میر حاجی حکمت لہڑی، حاجی میر دولت لہڑی، ایکشن کمیٹی کے صدر حاجی حبیب اللہ بادیزئی، جنرل سیکرٹری میر اکبر لہڑی، نائب صدر حاجی موسی جان اچکزئی اور دیگر نے کہا کہ خواتین، بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد سمیت مسافروں کو کھلے میدان میں بے یار و مددگار چھوڑ دینا انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کے مطابق اس واقعے نے بلوچستان میں امن و امان اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔انہوں نے دعوی کیا کہ اس واقعے سے تین روز قبل بھی چار مسافر کوچز کو اغوا کیا گیا تھا۔ ٹرانسپورٹر رہنماں نے کہا کہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ بلوچستان کی اہم ترین شاہراہوں میں شامل ہے، جہاں روزانہ ہزاروں افراد سفر کرتے ہیں۔ اگر مسافر کوچز میں سفر کرنے والے شہری بھی محفوظ نہیں تو عام لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھنا فطری ہے۔ٹرانسپورٹرز کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی مالی مشکلات، بڑھتے ہوئے اخراجات اور دیگر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ شاہراہوں پر عدم تحفظ کے واقعات ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے صوبے میں امن و امان کے قیام اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں، تاہم ایسے واقعات ان اقدامات کی مثریت پر سوالات اٹھاتے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ امن و امان کے قیام پر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود مسافروں، ٹرانسپورٹرز اور عام شہریوں کو قومی شاہراہوں پر تحفظ کیوں حاصل نہیں۔ ان کے مطابق ایسے واقعات مسافروں اور ان کے اہل خانہ میں خوف و ہراس پیدا کرنے کے ساتھ مسافر ٹرانسپورٹ کے نظام کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی اور دیگر رہنماں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، مسافر کوچز اور ان میں سوار افراد سے متعلق مکمل حقائق سامنے لائے جائیں اور واقعے میں مبینہ طور پر ملوث افراد کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ کوئٹہ کراچی سمیت بلوچستان کی تمام اہم قومی شاہراہوں پر سکیورٹی کے مثر انتظامات کیے جائیں اور مسافروں و ٹرانسپورٹرز کو محض یقین دہانیوں کے بجائے عملی تحفظ فراہم کیا جائے۔



