
کوئٹہ(یو این اے )سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پاک افغان اور پاک ایران سرحدوں کی بندش، شاہراہوں پر ناکوں اور سخت چیکنگ نے عوام کے لیے تجارت، روزگار اور آزادانہ نقل و حرکت کو مشکل بنا دیا ہے۔ عوام کے لیے حلال روزی کمانا دشوار ہو چکا ہے، جبکہ شاہراہوں کی بندش، ناکوں اور عوام کو درپیش مشکلات کے معاملے پر حکومت، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی ایک پیج پر دکھائی دیتے ہیں۔24 اکتوبر 2026 کو دورہ کوئٹہ کے دوران قبائلی عمائدین، مشران اور سیاسی قائدین سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ بلوچستان میں امن برقرار رکھنا اور عوام کی زندگیوں کا تحفظ یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ ملاقات میں قبائلی روایات، علاقائی مسائل اور صوبے کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر قبائلی عمائدین اور سیاسی رہنماں نے سراج الحق کو بتایا کہ ان کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقے عملا نوگو ایریاز بنتے جا رہے ہیں، تجارت اور ٹرانسپورٹ متاثر ہیں، سرحدوں اور شاہراہوں کی بندش کے باعث لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں انٹرنیٹ اور معمولات زندگی بھی معطل ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بدامنی کے باعث قبائلی خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں، تاجروں اور عام شہریوں کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے اور لاپتہ افراد کا معاملہ بھی تشویش ناک ہے۔ ان کے مطابق پرامن جمہوری احتجاج پر پابندیوں نے بھی عوامی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔سراج الحق نے کہا کہ بلوچستان میں امن قائم کرنا اور عوام کو ان کے حقوق دینا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ طاقت کے استعمال اور فوجی آپریشنز سے متعلق فیصلوں میں حقیقی قبائلی اور سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی بلوچستان میں امن کے قیام، عوام کو حقوق دلانے، سرحدیں کھلوانے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ہر سطح پر جدوجہد کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تجارت کے اہم ذرائع پاک ایران اور پاک افغان سرحدیں ہیں۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر طاقت کے ذریعے سرحدیں بند کرنے سے تاجروں اور عام شہریوں کی معیشت متاثر ہو رہی ہے، جبکہ ایران اور افغانستان کے ساتھ قانونی تجارت اور دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے بجائے غیرقانونی اسمگلنگ کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔سابق امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کرنے سے محرومیوں اور بے چینی میں اضافہ ہوگا۔ مسائل کا حل مذاکرات، مشاورت اور آئینی و جمہوری طریقہ کار میں ہے۔انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے عوام کو باعزت روزگار، آزادانہ تجارت، بنیادی انسانی حقوق اور پرامن زندگی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ سراج الحق کے مطابق عوام کو معاشی ریلیف اور بنیادی حقوق دیے بغیر پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔



