بلوچستانتازہ ترینپاکستان

وفاقی اور صوبائی حکومتیں فوری طور پر وفاقی لیویز کے حوالے سے مربوط فیصلہ کریں، جعفر خان مندوخیل

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنماءسابق صوبائی وزیر شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ وفاقی لیویزکے ہزاروں ملازمین کے مستقبل کے حوالے سے اقدامات نہ ہونے اور تنخواہوں کی عدم ادائےگی کے باعث ملازمین میں تشویش پائی جاتی ہے،

وفاقی اور صوبائی حکومتیں فوری طور پر وفاقی لیویز کے حوالے سے مربوط فیصلہ کریںجب تک ملازمین کے لئے حتمی لائحہ عمل طے نہیں ہوتا انہیں باقاعدگی سے تنخواہوں کی ادائےگی کی جائے ۔

یہ بات انہوں نے وفاقی لیویز کے حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان سے رابطے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ وفاقی لیویز عارضی نہیں بلکہ انگریز دور کی قبائلی فورس ہے جس نے ہمیشہ ان علاقوں میں امن و امان کی ذمہ داری سنبھالی ہے جہاں پولیس اور لیویز موجود نہیں ہوتیں اب اچانک سے انہیں وفاق کی جانب سے صوبے کے حوالے کردیا گیا ہے جبکہ انکے مسئلے کے مستقبل کے حوالے سے کسی قسم کا پائےدار حل بھی تجویز نہیں کیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ یکا یک وفاقی لیویز کے ملازمین کی تنخواہوں کی بندش سے ہزاروں خاندان بے چینی اور اضبطراب کا شکار ہیں وفاقی لیویز کے حوالے سے بلوچستان اسمبلی میں قرار داد بھی منظور کی گئی ہے اس پر بھی عملدآمد کو یقینی بنایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی لیویز کے ایک اہلکار کی وجہ سے ایک خاندان نہ صرف آباد بلکہ سرکاری طور پر محافظ بن جاتا ہے اس فورس کی صوبے میں بہت سی خدمات ہیں اور اب انہیں نہ وفاق کی جانب سے اپنایا جارہا ہے اورسننے میں آیا ہے کہ انہیں پولیس میں ضم کیا جائےگا جس سے اس قدیم فورس اور اس میں فرائض سرانجام دینے والے اہلکاروں کو بھی نقصان پہنچے گا ۔

انہوں نے کہاکہ 18ویں ترمیم کے بعد اگرچہ وفاقی لیویز کو صوبے کے حوالے کیا گیا مگر انکا سروس اسٹرکچر اب تک نہیں بنایا گیا اور نہ ہی صوبے نے انکی تنخواہوں سمیت دیگر مراعات کی ادائےگی کے لئے کوئی طریقہ بنایا ہے صوبائی حکومت فوری طور پر وفاق کی طرزوفاقی لیویز کا سروس اسٹرکچر تشکیل دے تاکہ ملازمین اپنے ملازمت پر جاری رکھ سکیںساتھ ہی وفاقی لیویز کے اہلکاروں کی تنخواہوں کو جاری کیا جائے اور جب تک انکے مستقبل کے حوالے سے طریقہ کار طے نہیں ہوتا انہیں مکمل تنخواہوں کی ادائےگی کو بھی یقینی بنائے تاکہ وفاقی لیویز کے اہلکار اپنے فرائض سرانجام دے سکیں ۔

متعلقہ خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button